خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 193

خطبة الهامية ۱۹۳ اردو ترجمہ ނ النفوس من الأهواء والإرادات اور ارادوں کے اعتبار سے نفوس کی موت والاسلاك على الشريعة ہو اور جس میں فطری شریعت پر چلا نا ہو جو الفطرية التي تجرى تحت الہی مصلحتوں کے تحت جاری و ساری المصالح الإلهية وتخليص ہے اور جس میں نفس کی خواہشات الناس من ميل النفس بهواها کے میلان کے نتیجے میں عفو و انتقام إلى العفو والانتقام والمحبة اور محبت و عداوت لوگوں کو والمعاداة۔فإن الشريعة الفطرية نجات دلانا ہو۔کیونکہ فطرتی التي تستخدم قوى الإنسان شريعت ، جو تمام قوائے انسانیہ کو کام كلهالاترضى بأن تكون میں لاتی ہے وہ اس بات پر راضی خادمة لقوّة واحدة ، ولا تقيّد نہیں ہوتی کہ صرف کسی ایک قوت کی أخلاق الإنسان في دائرة خادم بنے اور نہ ہی انسانی اخلاق کو العفو فقط، ولا في دائرة محض عفو کے دائرہ میں یا محض انتقام الانتقام فقط، بل تحسبه کے دائرہ میں مقید کرتی ہے بلکہ اسے سجيّة غير مرضية، وتؤتى ایک نا پسندیدہ خلق خیال کرتی ہے۔كل قوة حقها عند مصلحة اور ہر قوت کو حسب مو موقع مصلحت داعية وضرورة مقتضية، و اور تقاضائے ضرورت کے مطابق تغيّر حكم العفو والانتقام اس کا پورا حق دیتی ہے اور وقتی والمصافاة والمعاداة بحسب مصلحتوں کے تغیرات کے مطابق عفو و تغيرات المصالح الوقتية انتقام اور خالص دوستی و دشمنی کا حکم وهذا هو الموت من النفس بدلتی رہتی ہے۔یہ ہے نفس والهوى والجذبات النفسانية خواہشات اور جذبات نفسانیہ کی ودخول في الفانين۔فحاصل موت اور فانی لوگوں میں شامل ہو جا نا۔