خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 166

خطبه الهاميه ۱۶۶ ارد و ترجمه من الزمان عند ذلة تصيب المسلمین ہے۔اس وقت جبکہ مسلمانوں کو ذلت پہنچے كما ترون في هذا الأوان، وكان جيسا کہ اس زمانہ میں دیکھتے ہو اور اسلام ہلال کی الإسلام بدأ كالهلال وكان قدر طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار آخر زمانہ أنه سيكون بدرا فی آخر الزمان میں بدر ہو جائے خدا تعالیٰ کے حکم سے۔پس والمآل بإذن الله ذي الجلال خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اُس صدی فاقتضت حكمة الله أن يكون میں بدر کی شکل اختیار کرے جو شمار کے رو سے بدر الإسلام بدرا في مائة تشابه کی طرح مشابہ ہو۔پس انہی معنوں کی طرف البدر عِدةً۔فإليه أشار في قوله اشارہ ہے خدا تعالیٰ کے اس قول میں لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ۔لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرِ۔پس (۱۸۵) ففكر فكرة كاملة ولا تكن من الغافلين۔وإن لفظ لَقَدْ نَصَرَكُمُ قد أتى هنا على وجه آخر أعنى بمعنى ينصركم كما لا يخفى اس امر میں باریک نظر سے غور کر اور غافلوں سے نہ ہو اور بےشک لَقَدْ نَصَرَكُمْ کا لفظ یہاں دوسری وجہ کے رو سے يَنصُرُ كُمُ کے معنوں میں آیا ہے۔جیسا کہ عارفوں پر ظاہر ہے۔الغرض على العارفين فحاصل الكلام أن خدا تعالیٰ نے اسلام کے لئے دوذلت کے بعد دو الله كان قد قدر للإسلام العزّتين عزتیں رکھی تھیں یہود کے برخلاف کہ ان کے بعد الذلّتين على رغم اليهود الذين كان قدر لهم الذلّتين بعد لئے سزا کے طور پر دوعزتوں کے بعد دو ذلتیں العزتين نكالا من عنده كما مقرر کی تھیں جیسا کہ بنی اسرائیل کی سورۃ میں اُن تقرء ون في سورة بني إسرائيل قصة کے فاسقوں اور ظالموں کا قصہ پڑھتے ہو۔الفاسقين منهم والظالمين فلما پس جس وقت مسلمانوں کو پہلی ذلت مکہ میں پہنچی أصاب المسلمين الذلة الأولى خدا نے اُن سے اپنے اس قول میں وعدہ فرمایا تھا في مكة وعدهم الله بقوله أذِنَ أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُوْنَ آخر آیت لِلَّذِيْنَ يُقْتَلُوْنَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا تک اور عَلى نَصْرِهِمُ کے قول سے اشارہ کیا