خطبة اِلہامِیّة — Page 142
خطبه الهاميه ۱۴۲ ارد و ترجمه إليها الإشارة الجليّة أو الخفية کے بارہ میں کوئی پوشیدہ اور کھلا اشارہ في كتاب الله ولا في أثر قرآن شریف میں اور رسول اللہ صلی اللہ رسوله، فالذين يتبعونها عليه وسلم کی حدیث میں پایا نہیں جاتا۔لا يتبعون إلا سَمُرًا وإن هم پس جو لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں وہ إلا يعمهون۔وأما نزول عیسی در اصل جھوٹ کی پیروی کرتے ہیں اور فاعلم أن لفظ النزول عربی پڑے بھٹکتے پھرتے ہیں۔لیکن عیسی کے يُستعمل في محل الإكرام نزول کی نسبت پس جان تو کہ نزول کا لفظ والإجلال، وتعلمون معنى عربی لفظ ہے جو کسی کی عزت اور تعظیم کے النزيل أيها المتفقهون۔وما لئے استعمال کیا جاتا ہے اور نزیل کے رأينا في كتب الحديث خبرًا معنى عالم جانتے ہیں۔اور ہم نے حدیث من رسول الله مرفوعًا متصلا کی کتابوں میں ایسی کوئی مرفوع متصل يُفهم منه أن عيسى ينزل من حدیث نہیں دیکھی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو السماء، وما وجدنا لفظ کہ عیسی آسمان سے اترے گا اور نہ ہم السماء في أحد من الأحاديث نے سما کا لفظ کسی حدیث صحیح قوی میں الصحيحة القوية، وهذا أمر پایا۔اور یہ بات حدیث کے عالم خوب بدیهى يـعـلـمـه الـمحدّثون، جانتے ہیں اور اس بات کا انکار سوائے ولا ينكره إلا الذي جهل اس کے کوئی نہیں کرتا جو جاہل ہو یا اپنے ۱۳۸ أو تجاهل، ولا ينكره إلا آپ کو جاہل ظاہر کرے۔یا جو اندھا ہو العمون ومع ذالك إنّه اور اس کے سوا یہ بات قرآن کے خلاف أمر خالف القرآن وعارضه اور اس کی ضد پڑی ہوئی ہے۔پس فبأي حديث بعد القرآن قرآن کے سوا کون سی حدیث ہے جس پر تؤمنون؟ وقد قال الله سبحانه ایمان لاتے ہو اور خدا فرماتا ہے کہ