خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 139

خطبه الهاميه ۱۳۹ ارد و ترجمه الفاتحة وقد كنتم تصرون عليها نہیں پڑھتے اور تم تو اس پر بہت اصرار کیا أيها المحدثون؟ اليوم عاداکم کرتے تھے۔آج فاتحہ تم سے دشمنی کرتی ہے اور (۱۴۲) الفاتحة وأنتم عاديتموها وصار تم اس سے کرتے ہو اور اس کا التزام تمہاری التزامها عذاب أنفسكم كأنها جان پرسخت عذاب ہو گیا ہے گویا کہ وہ ایک جرعة غير سائغ تبلعونها ولا ناگوار گھونٹ ہے جسے نگلنا چاہتے ہو لیکن نگل نہیں تستطيعون ولا تتلون بعد سکتے۔اور امید ہے کہ اب اس کے بعد تم اس ذالك هذه السورة إلا و أنتم سورة كو بغير درد و الم کے نہ پڑھو گے اور جب تتألمون ولا تتلون: غَيْرِ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کا لفظ پڑھو گے الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ إِلَّا و تغضبون تو تم کو اپنے اوپر سخت غصہ آئے گا اور پچھتاؤ على أنفسكم وتتندمون۔گے اور جس وقت اسے پڑھو گے تمہاری جان وترونهـا عـذابا شديدا فی کل اس سے سخت عذاب محسوس کرے گی۔اس حين تقرءون۔فحينئذ تحترق وقت تمہارے دل حسرت کی آگ سے کباب قلوبكم بلطى الحسرة و ربما ہوں گے اور اکثر چاہو گے کہ کاش کہ ہم سورۃ تو دون لو كنتم تتركون۔فاتحہ کا پڑھنا چھوڑ دیتے۔اَلْبَابُ الرَّابِعُ إن الذين يزعمون أن عيسى جن کا یہ گمان ہے کہ عیسی علیہ السلام آسمان پر گئے (۱۴۳ صعد إلى السماء ليس عندھم ان کے ہاتھ میں کوئی دلیل نہیں بلکہ وہ جھوٹ بولتے سلطان وإن هم إلا يكذبون ہیں۔کیا یہ بات خدا نے قرآن میں لکھ دی ہے اس أكتبه الله في القرآن فيتبعونه، أو لئے اس کی پیروی کرتے ہیں یا یہ بات رسول نے کہی قاله الرسول فيقولونه کلا بل ہے پس وہ بھی کہتے ہیں ہرگز ایسا نہیں۔بلکہ