خطبة اِلہامِیّة — Page 134
خطبه الهاميه ۱۳۴ ارد و ترجمه أن تُكتب أسماء كم في السماء ، کرو کہ تمہارا نام آسمان کے لوح پر لکھا جائے ولا تفرحوا بقشر الإسلام أيها اور اے مسلمانو ! اسلام کے چھلکے پر ناز مت کرو۔المسلمون قد اقتربت أيام الله، خدا کے دن قریب آگئے ہیں اور قریب ہے کہ وہ وإنه يذهب بالفاسقين منكم ان فاسقوں کی رونق بازار سرد کر دے جو تم میں سے ويأتي بقوم يحبهم ويحبونه ہیں۔اور ایسی قوم پیدا کرے کہ وہ ان سے محبت۔١٣٦ يذكرون الله ويذكرهم، ویتم کرے اور وہ اس سے محبت کریں۔وہ اسے یاد عليهم كل ما وعدكم من النعم کریں اور وہ ان کو یاد کرے اور نعمت کے سارے ولا تضرونه شيئا، فمالكم وعدے جو اس نے تم سے کئے ہیں ان کے حق میں لا تتقون؟ إن مثل نبينا عند الله پورا کرے اور تم اسے کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتے پس كمثل موسى، وإن موسى وعد کیوں نہیں ڈرتے ؟ خدا کے نزدیک ہمارے نبی قوما، وأتمه لقوم ،آخرین صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہیں اور تم وأهلك الله آباء هم فی الفلاة جانتے ہو کہ موسیٰ نے ایک قوم کے ساتھ وعدہ کیا لما كانوا قوما عاصین لیکن اس وعدہ کو دوسری قوم کے حق میں پورا کیا اور وكذلك يفعل بكم أيها خدا نے ان کے باپوں کو میدان میں ہلاک کیا المعتدون، ويرحمكم أيها کیونکہ نافرمان قوم تھی۔اور خدا یہی معاملہ تمہارے الصالحون۔فاصلحوا ذات ساتھ کرے گا اے حد سے بڑھ جانے والو! اور بينكم وأصلحوا ما أفسدتم ولا اے پر ہیز گارو! تم پر رحم کرے گا۔اب چاہیے کہ تقعدوا مع الذين يستكبرون۔سچائی اور صلح اختیار کرو اور اس چیز کو درست کرو جسے أتعجزون ربّ السماء ببطشكم تم نے تباہ کر دیا ہے اور مغروروں کے ساتھ نہ بیٹھو۔أو تخدعونه بخديعتكم؟ کلا بل کیا ممکن ہے کہ اپنے زور اور قوت کے ساتھ آسمان۔١٣٧ إنكم على أنفسكم تظلمون کے رب کو تھکا دو بلکہ اپنی جان پر ظلم کرتے ہو۔میں ولا أقول عندى علم أو قوة | نہیں کہتا کہ میرے ہاتھ میں علم اور قوت ہے۔۔