خطبة اِلہامِیّة — Page 123
خطبه الهاميه ۱۲۳ ارد و ترجمه يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اپنا ہاتھ دیتے ہیں وہ خدا کے ہاتھ میں ہاتھ دیتے اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمُ" ، وقد أشعتُ ہیں۔خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے۔هذا الوحي من سنين، ويعلمه برسوں ہوئے کہ اس وحی کی میں نے اشاعت کی المحبّون والمعادون۔والله يأتى ہے جیسا کہ دوست اور دشمن سب اسے جانتے ہیں الأرض ينقصها من أطرافها، اور خدا دن بدن زمین کو اس کی طرفوں سے اس فتوبوا إلى الله أيها الغافلون۔ولا طرح پر کم کرتا چلا جاتا ہے کہ فوج در فوج لوگ ہر تفرّطوا في حقوق الله وعباده، طرف سے آرہے ہیں۔پس اے غافلو! خدا کی ولا تكونوا من الذين يظلمون طرف رجوع کرو اور خدا کے اور اس کے بندوں وتوبوا توبةً نصوحا لعلکم کے حق میں ظلم اور ستم نہ کرو۔اور تو به نصوح کرو تا تم ۱۲۰ ترحمون۔وقال ربّى" : إِنَّ اللهَ لا پر رحم کیا جائے۔اور خدا نے مجھے فرمایا کہ خدا کبھی يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ خود وہ بِأَنفُسِهِمْ إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ "، یعنی لوگ اپنی اندرونی حالت کو تبدیل نہ کریں۔اور سچ مچ من دخلها كان ،آمِنًا، وأخاف خدا نے اس گاؤں کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے یعنی جو على الذين لا يخافون الله ولا کوئی اس میں داخل ہوا وہ سلامت رہا۔ہاں مجھے ينتهون فقوموا من مواضعكم ان کا فکر ہے جو خدا سے نہیں ڈرتے اور سیاہ کاری خاشعين، واسجدوا توابین سے باز نہیں آتے۔اب چاہیے کہ اپنی جگہوں سے وكونوالنفوسکم ناصحین عاجزی سے اٹھو اور تو بہ کے ساتھ سجدے کرو اور وفكروا مرتعدين، ولا تكونوا اپنی جان کا فکر کرو۔اور سوچ اور خوف کے ساتھ فکر كالذين يفسقون و هم يضحكون کرو اور ان کی طرح نہ ہو جاؤ جو فاسق ہیں اور ٹھٹھے إن إنكار المأمورين شیء عظیم مارتے ہیں خوب جان لو کہ ماموروں کا انکار بڑی ومن حاربهم فقد ألقى نفسه فی بھاری بات ہے اور جوان سے لڑا یقیناً اپنے آپ الجهيم، فلا خير في هذہ کو دوزخ کا کندا بنایا۔اے لڑنے والو ! اس ☆ یہ لفظ اصل میں ” الجحیم“ ہے۔(ناشر)