خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 119

خطبه الهاميه ۱۱۹ ارد و ترجمه وإن إقراری برکات للذین سبب اور میرا اقرار ان کے لئے جو حسد کو يتركون الحسد ويؤمنون ولو چھوڑتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں برکتوں كان هذا الأمر و الشأن من عند کا باعث ہے۔اور اگر یہ امر خدا کی طرف غير الله لمزق كل ممزق و سے نہ ہوتا تو البتہ یہ کارخانہ تباہ ہو جاتا اور لجمع علينا لعنة الأرض ولعنة ہم پر زمین اور آسمان کی لعنت جمع ہو جاتی اور السماء ولأفاز الله أعدائى بكل دشمن اپنے ہرا رادہ میں کامیاب ہو جاتے۔ما يريدون كلا بل إنه وعد من ہرگز ایسا نہیں بلکہ اس سلسلہ کا خدا کی طرف الله وقد تم صدقا وحقا، وإنّه سے وعدہ دیا گیا تھا جو بچے طور سے پورا ہو بشرى للذين كانوا ينتظرون گیا اور خوشخبری ان کے لئے ہے جو انتظار وقد رُفِعَ قضيتنا إلى الله وإن کرتے تھے اب ہمارا یہ مقدمہ خدا کی حزبـنـا أو حزبكم سيُنصرون او کچہری میں پہنچ گیا ہے۔اور قریب ہے کہ (۱۴) يُخذلون۔فحاصل الكلام في هذا تمہاری فتح ہو یا تمہیں شکست ہو۔غرض سورۃ المقام أن الفاتحة قد بينت أن فاتحہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ اُمت امتِ وسط هذه الأمة امة وسط مستعدة لأن ہے اور ترقیات کے لئے ایسی استعداد رکھتی تترقى، فيكون بعضهم كنبي من ہے کہ ممکن ہے کہ بعض ان میں سے الأنبياء ، ومستعدة لأن تتنزّل ہو جائیں اور یہ بھی استعداد اس میں انبیاء فيكون بعضهم يهودًا ملعونین ہے کہ یہاں تک پست اور منزل ہو كقردة البيداء ، أو يدخلون فى جائے کہ بعض ان میں سے یہودی اور جنگل الضالين ويتنصّرون و کفاک کے بندروں کی طرح لعنتی ہو جائیں یا گمراہ هذا الدعاء الذي تقرأه فی ہو جائیں اور نصرانی ہو جائیں۔اور تیرے صلواتک الخمس إن كنتَ من لئے یہ دعا جو تو پانچ وقت نماز میں پڑھتا ہے الذين يطلبون الحق وإليه| کافی ہے اگر حق کی طلب تیرے دل میں ہے