خطبة اِلہامِیّة — Page 110
خطبه الهاميه ارد و ترجمه ثم جعل هذه الأمة فرقة رابعة، پھر اس امت کو چوتھا فرقہ قرار دیا اور وأومـاً الفاتحة إلى أنهم ورثوا فاتحہ میں اشارہ کیا کہ وہ ان تین فرقوں (۱۰۰) تلك الثلاثة، إما من المنعم میں سے یا تو مُنْعَم عَلَيْهِـم کے وارث عليهم، أو من المغضوب عليهم، ہوں گے یا مَغْضُوبِ عَلَيْهِم کے وارث أو من الذين يضلّون ويتنصرون ہوں گے یا ضالین کے وارث ہوں گے وأمر أن يسأل المسلمون ربھم اور حکم دیا ہے کہ مسلمان اپنے رب سے أن يجعلهم من الفرقة الأولى ولا چاہیں کہ ان کو پہلے فرقہ میں سے بنا دے يجعلهم من الذين غضب عليهم اور مَغْضُوبِ عَلَيْهِم اور ضالین میں سے ولا من الضالين الذين يعبدون نہ بناوے جو عیسی کو پوجتے ہیں اور اپنے عيسى وبربهم يشركون وكان پروردگار کے برابر بناتے ہیں اور اس في هذا أنباء ثلاث لقوم میں ان کے لئے جو فراست سے کام لیتے يتفرّسون۔فلما جاء وقت هذه ہیں تین پیشگوئیاں ہیں پس جب ان الأنباء بدأ الله من الضالين كما پیشگوئیوں کا وقت پہنچ گیا خدا نے الین أنتم تنظرون، فخرج النصاری سے شروع کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو پس ١٠١ من ديرهم بقوة لا يدان لها وهم نصاری ایسی قوت کے ساتھ اپنے گر جاؤں من كل حدب ینسلون، وزلزلت سے نکلے ہیں کہ کوئی ان کی برابری نہیں کر الأرض زلزالها وأخرجت الها وأخرجت سکتا۔اور وہ ہر ایک اونچائی پر سے دوڑتے أثقالها، وتنصر فوج من ہیں۔اور زمین ہلنے لگی اور اپنے سب بوجھ المسلمين كما أنتم تشاهدون اُگل دیئے اور مسلمانوں میں سے بہت ثم جاء وقت النبأ الثاني أعنى سے نصرانی ہو گئے پھر دوسری خبر کا وقت وقت خروج المغضوب عليهم پہنچا یعنی مَغْضُوبِ عَلَيْهِم کے نکلنے کا وقت كما كان الوعد الربّاني، فصار جیسا کہ خدا نے وعدہ فرمایا تھا پس۔