دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 589 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 589

589 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری رہے ہیں۔جب انہیں بتایا گیا کہ آج ان کا آخری دن ہے اور اب انہیں پھانسی دے دی جائے گی اور وہ اب اپنی وصیت لکھ سکتے ہیں تو انہوں نے ڈیوٹی پر متعین کرنل رفیع صاحب سے پوچھا کہ رفیع یہ کیا کھیل ہے؟ اس پر رفیع صاحب نے انہیں بتایا کہ جناب آج آخری حکم مل گیا ہے آج انہیں پھانسی دے دی جائے گی۔رفیع صاحب ان لمحوں کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچتے ہیں۔”مسٹر بھٹو میں پہلی مرتبہ میں نے وحشت کے آثار دیکھے۔انہوں نے اونچی آواز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا۔بس ختم؟ بس ختم؟ میں نے جواب میں کہا۔جی جناب۔بھٹو صاحب کی آنکھیں وحشت اور اندرونی گھبراہٹ سے جیسے پھٹ گئیں ہوں۔ان کے چہرے پر پیلاہٹ اور مخکلی آگئی جو میں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔میں اس حالت کو صحیح بیان نہیں کر سکتا۔انہوں نے کس وقت؟“ اور پھر کہا کس وقت اور پھر کہا آج؟ میں نے اپنے ہاتھوں کی سات انگلیاں ان کے سامنے کہا انہوں نے کہا سات دن بعد ؟ میں نے ان کے نزدیک ہو کر سر گوشی میں بتایا۔جناب گھنٹے۔انہوں نے کہا۔آج رات سات گھنٹوں بعد ؟ میں نے اپنا سر ہلاتے ہوئے ہاں میں جواب دیا۔بھٹو صاحب جب پنڈی جیل میں لائے گئے اس وقت سے وہ مضبوط اور سخت چٹان بنے ہوئے تھے لیکن اس موقع پر وہ بالکل تحلیل ہوتے دکھائے دے رہے تھے۔۔۔(22) انہوں نے خود کلامی کے انداز میں کہا ”میرے وکلاء نے اس کیس کو خراب کیا ہے۔بیٹی میری پھانسی کا ذمہ دار ہے۔وہ مجھے غلط بتاتا رہا۔اس نے اس کا ستیاناس کیا ہے۔اس نے ہمیشہ سبز باغ دکھائے۔پھر کہنے لگے میری پارٹی کو مردہ بھٹو کی ضرورت تھی زندہ بھٹو کی نہیں۔(23) ہم جیسا کہ ذکر کر چکے ہیں کہ بیٹی بختیار صاحب کو اور اس مقدمہ میں ان کے معاون وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب کو بھٹو صاحب کا بہت اعتماد حاصل تھا۔بیٹی بختیار صاحب نے بحیثیت اٹارنی جنرل 1974ء میں جب قومی اسمبلی میں حضرت خلیفة المسیح الثالث " پر کئی روز سوالات کئے تھے اور وہ خود بھی اپنے اس کام کو اپنا