دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 573
573 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ مولوی کو اس بات سے کم ہی دلچسپی ہوتی ہے کہ ملک میں اسلامی آئین ہے کہ غیر اسلامی آئین ہے۔چھٹی جمعہ کو ہو رہی ہے یا اتوار کو ہو رہی ہے۔نائٹ کلب کھلے ہیں یا در پردہ کام کر رہے ہیں۔انہیں صرف اور صرف حصول اقتدار سے غرض ہوتی ہے۔بھٹو صاحب کے خلاف تحریک کی شدت میں کوئی کمی نہیں آ رہی تھی اور ملک کی حالت بد سے بد تر ہوتی جا رہی تھی۔جب نئی قومی اسمبلی نے کام شروع کیا تو 28 / اپریل 1977ء کو بھٹو صاحب نے اس سے خطاب کیا۔انہوں نے اس تقریر میں الزام لگایا کہ ان کی حکومت کے خلاف اور پاکستان کے خلاف بیرونی ہاتھ سازش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ہاتھی ہیں جو کہ ملک کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ان ہاتھیوں کی یادداشت بہت تیز ہوتی ہے انہیں یاد ہے کہ ویت نام کے مسئلہ میں، چین سے تعلقات قائم کرنے میں ہم نے ان کی مرضی کے خلاف کام کیا تھا۔ہم نے عرب ممالک کو فوجی مدد دی تھی۔اس کا بدلہ لینے کے لئے ان ہاتھیوں نے اس حکومت کے خلاف تحریک چلوانے کے لئے پانی کی طرح پیسہ بہایا ہے۔یہاں تک کہ کراچی میں ڈالر کی قیمت گر کر چھ سات روپے فی ڈالر تک آگئی۔اس بیرونی ہاتھ نے ملک کو مفلوج کرنے اور پہیہ جام کرنے کے لئے تخریب کاروں کو تربیت دی۔انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں میں پاکستان کے استحکام کا ستون ہوں۔ہاتھیوں نے اس بات کو پسند نہیں کیا کہ پاکستان میں اسلامی سربراہی کانفرنس ہوئی، ہم نے یونان اور ترکی کے تنازعہ کو ختم کرانے کی کوشش کی۔کوریا نے اپنا تنازعہ حل کرنے کے لئے پاکستان سے رجوع کیا۔پاکستان نے فرانس سے ایٹمی ری پراسسنگ پلانٹ لینے کا معاہدہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو نقصان پہنچا تو متحدہ عرب امارات، عمان اور سعودی عرب جیسے مسلم ممالک کی پیٹھ میں چھرا گھونپا جائے گا۔اس تقریر کا لب لباب یہ تھا کہ یہ تحریک ، یہ سیاسی ایجی ٹیشن بیرونی ہاتھ کی کارگزاری ہے۔بھٹو صاحب نے اس الزام کو اپنی کتاب If I am Assassinated میں دہرایا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ قومی اتحاد میں شامل اکثر جماعتوں کو اس سازش کا کم از کم پورا علم نہیں تھا۔خاکسار تحریک کو اس کا علم نہیں تھاNDP کو اس کا پورا علم نہیں تھا۔جو جماعت پوری طرح اس سازش میں رابطہ بنی ہوئی تھی وہ جماعت اسلامی تھی۔اور اس جرم کو چھپانے کے لئے اب جماعتِ اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد امریکہ پر تنقید کرتے رہتے ہیں تا کہ پاکستان کے سادہ لوح