دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 571
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 571 یہ نہ صرف ایک مامور من اللہ کی شان میں گستاخی تھی بلکہ سیاست کے اعتبار سے بھی تیسرے درجہ کی بیان بازی تھی۔بہر حال اپنے بھیجے ہوئے مامورین کی شان میں گستاخی کا بدلہ خود خدا تعالیٰ لیتا ہے۔بھٹو صاحب نے تو اپنی دانست میں احمدیوں کے خلاف آئین میں ترمیم کر کے مذہبی حلقوں کو مکمل طور پر لاجواب کر دیا تھا لیکن اب تمام مخالف جماعتیں قومی اتحاد کے نام سے اتحاد بنا کر ان کے خلاف صف آراء تھیں اور ان کا نعرہ تھا کہ وہ پاکستان میں نظام مصطفے نافذ کریں گے اور مولویوں کا گروہ بھٹو صاحب کے خلاف سب سے زیادہ سرگرم تھا۔مقررہ تاریخوں کو انتخابات ہوئے۔نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی نے 136 اور مخالف قومی اتحاد نے صرف 36 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔اپوزیشن نے انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلیوں کا الزام لگایا اور نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔اور اس کے ساتھ صوبائی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا گیا۔جو کہ کامیاب رہا اور بہت کم لوگ صوبائی انتخابات میں ووٹ ڈالنے آئے۔اپوزیشن وزیر اعظم کے مستعفی ہونے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی تھی۔یہ مہم تیز تر ہوتی گئی۔بھٹو صاحب کے اکثر پرانے رفقاء انہیں چھوڑ چکے تھے یا پھر بھٹو صاحب نے خود ہی انہیں اپنے غضب کا نشانہ بنا کر علیحدہ کر دیا تھا۔با وجود ایک طاقتور اور قد آور شخصیت ہونے کے اس وقت وہ تنہا اور بے بس نظر آرہے تھے۔ان کے پرانے رفیق اور سابق وفاقی وزیر رفیع رضا صاحب لکھتے ہیں: اپنے سے۔”پی پی پی کے ابتدائی گروہ میں سے اب صرف ممتاز بھٹو ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تھے اور اس کی وجوہات بھی خاندانی تھیں۔میں اور ممتاز اس بات پر تبصرہ کیا کرتے تھے کہ کس طرح اس وقت بھٹو صاحب نے اپنی ایجنسیوں کی بجائے ہمارے سے رجوع کیا ہے اگرچہ میں اس وقت وزیر نہیں تھا۔گو بد قسمتی سے اس وقت تک بہت کچھ بگڑ چکا تھا۔وہ بالکل بے بس نظر آتے تھے۔ان کے پاس کہنے کو کوئی نئی بات نہیں تھی۔ان کے پاس کرنے کو کچھ نیا نہ تھا۔وہ پی پی پی کے پرانے دوستوں اور ساتھیوں کو کھو چکے تھے۔پبلک اور پارٹی کا جو کچھ بھی بچا تھا ان کی مدد کو نہیں آ رہا تھا۔اور اب انہیں احساس ہو گیا ہو گا کہ وہ طاقت پر بہت زیادہ انحصار