دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 570 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 570

570 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری دوڑے گئے تاکہ وہاں کے نجومیوں کی رائے لی جا سکے۔اور جب ان نجومیوں نے اس کے حق میں رائے دی تو انتخابات کا اعلان کیا گیا۔پھر بھٹو صاحب نے اپنے ہاتھ کی لکیروں کا عکس ایک دست شناس کو بھجوایا۔اس وقت اپوزیشن مٹی ہوئی تھی اور اس میں کوئی جان نظر نہیں آرہی تھی۔لیکن جلد ہی اپوزیشن کی تو جماعتوں نے اتحاد کا اعلان کیا اور اقتدار میں آکر نظام مصطفے نافذ کرنے کا اعلان کیا۔اور اس کے ساتھ ہی بھٹو صاحب کے خلاف ایک منظم اور جاندار انتخابی مہم شروع ہو گئی۔دوسری طرف بہت سے لیڈروں نے جو پہلے کسی زمانے میں بھٹو صاحب کے سخت مخالف رہ چکے تھے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ کے حصول کے لئے بزعم خود اپنے ہزاروں ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت کے اعلانات کرنا شروع کر دیئے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ بھٹو صاحب کے وزیر رفیع رضا صاحب کے مطابق اگر ان دعووں کی تعداد جمع کر دی جاتی تو پاکستان کی آبادی سے دوگنی نکلتی۔لیکن بھٹو صاحب اس صورت حال میں بہت خوش تھے۔جب انتخابات کے لئے پارٹی کے منشور کی تیاری کا مرحلہ آیا تو رفیع رضا صاحب بیان کرتے ہیں کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے خود اصرار کیا کہ حکومت کے کارنامے بیان کرتے ہوئے منشور میں یہ حصـ ضرور شامل کیا جائے نوے سالہ قدیم قادیانی مسئلہ کو خوش اسلوبی سے طے کر دیا۔دستور میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص حضرت محمد مصطفے صلی الی ان کو قطعی اور غیر مشروط طور پر آخری نبی نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں۔66 (26-25) بھٹو صاحب نے بھی ایک بھر پور انتخابی مہم شروع کی۔پہلے جو ہوا تھا وہ تو ہوا تھا لیکن اس مہم کے دوران بھی بھٹو صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق گستاخانہ کلمات استعمال کئے۔انہوں نے قومی اتحاد کے لیڈروں کے متعلق یہ بیان دیا:۔وو اگر الیکشن جیتنے کے لئے ان لوگوں کو مرزا غلام احمد قادیانی کی قبر پر بھی جانا پڑا تو یہ دریغ نہیں کریں گے “(4)