دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 560
560 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس وقت بظاہر یہ لگ بھی رہا تھا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو بھی گئے ہیں۔وہ سیاسی طور پر اتنے مضبوط کبھی بھی نہیں تھے جتنا اس وقت نظر آرہے تھے۔ان کے مخالف بھی جن میں مولوی گروہ کی ایک بڑی تعداد شامل تھی ان کے اس فیصلے کی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھی۔وہ صرف پاکستان کے مقبول وزیر اعظم ہی نہیں تھے ،عالمی سطح پر بھی ان کا طوطی بول رہا تھا۔دوسرے مسلمان ممالک سے بھی واہ واہ کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔اس پس منظر میں کوئی کہہ سکتا تھا کہ اگر جماعت احمدیہ پر کوئی ظلم ہو گیا ہے تو یہ ایک کمزور سی جماعت ہے ان کی کون سنے گا؟ کون ان کا بدلہ لے گا؟ یہ کمزور گروہ اپنے مقدمے کو کہاں لے کر جائے گا؟ لیکن 26 / دسمبر 1975ء کی صبح کو یہ مقدمہ آسمان پر دائر کر دیا گیا تھا۔بھٹو صاحب جیسے مقبول، ذہین اور منجھے ہوئے سیاستدان کا اقتدار سے رخصت ہونا اور پھر ایک تکلیف دہ اسیری سے گزرنا اور پھر قتل کے الزام میں ان کو پھانسی کی سزا ملنا ، یہ سب ایسے واقعات ہیں جن پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اس کا بہت کچھ تجزیہ کیا گیا ہے اور آئندہ بھی کیا جائے گا۔لیکن جب بھی کوئی روحانی آنکھ سے ان واقعات کا تجزیہ کرے گا تو اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ 26 دسمبر 1975ء کو کی جانے والی دعا ایک مقدمہ تھی جورب العالمین کے حضور دائر کیا گیا تھا اور چند سالوں کے بعد دنیا کی آنکھ نے فیصلہ بھی مشاہدہ کر لیا۔اس فیصلہ کرنے والوں کا انجام کیا ہوا اور ملک اور قوم کو اس کا کیا خمیازہ رہیں نا پڑا اس کا جائزہ ہم مختلف مرحلوں پر۔گے۔لیکن پیپلز پارٹی اور قومی اسمبلی میں شریک دوسری جماعتوں کے لیڈر اس وقت سے اب تک فخر یہ بیان بازی کرتے آئے ہیں کہ ہم نے 1974ء میں یہ فیصلہ کر کے بڑا تیر مارا تھا۔گو کہ اب کچھ آوازیں اس طرح کی بھی سننے میں آ رہی ہیں کہ اس کے ساتھ ملک میں تنگ نظری اور مذہبی دہشت گردی کا ایک نیا باب کھل گیا تھا۔جماعت کے مخالف بیان بازی اصول اور سچائی سے کتنا خالی ہوتی ہے۔اس کا اندازہ اس ایک مثال سے ہو سکتا ہے۔اکتوبر 1975ء میں پاکستان کے وزیر مملکت برائے ریلوے میاں عطاء اللہ صاحب نے یہ بیان داغا کہ ہم نے تو اس فیصلہ کے ذریعہ 90 سالہ مسئلہ حل کر دیا ہے لیکن قادیانی سازش کر رہے ہیں کہ کسی طرح یہ