دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 530 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 530

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 530 حالات زندگی بیان کرنے شروع کئے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ ایک قابل شخص تھے اور عربی،فارسی اور اردو میں اچھی طرح تحریر کر سکتے تھے اور 1889ء تک ان کو مسلمانوں میں ہیرو سمجھا جاتا تھا۔اس کے بعد انہوں نے پہلی بیعت کے متعلق اپنی تحقیق بیان کرنی شروع کی۔انہوں نے کہا کہ میں نے اس بات پر غور کیا ہے کہ مرزا غلام احمد (علیہ السلام ) نے قادیان کی بجائے لدھیانہ میں پہلی بیعت کیوں لی؟ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں فیصلہ تو ممبرانِ اسمبلی کریں گے لیکن میرا خیال ہے کہ چونکہ روایات میں ہے آنے والا مسیح ”لد“ کے مقام پر اپنے مسیح ہونے کا اعلان کرے گا۔اس لئے بانی سلسلہ احمدیہ نے قادیان کی بجائے لدھیانہ میں بیعت لی۔اٹارنی جنرل صاحب بنیادی معلومات حاصل کئے بغیر سنسنی خیز نتائج پیش کر رہے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ روایت یہ نہیں ہے کہ مسیح "لد " کے مقام پر اپنے دعوے کا اعلان کرے گا بلکہ یہ ہے کہ مسیح باب لد پر دجال کو قتل کرے گا۔چنانچہ صحیح مسلم کی کتاب الفتن کے باب ذکر الدجال میں حضرت نواس بن سمعان سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی نیلم نے فرمایا کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام نازل ہوں گے تو جس کافر تک آپ کا سانس پہنچے گا وہ مر جائے گا اور آپ دجال کا پیچھا کر کے اسے باب لد پر پکڑ لیں گے اور قتل کر دیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلی بیعت کہاں لی اور کیوں لی؟ یہ بات بالکل نا قابلِ فہم ہے کہ اس کی وجہ کے بارے میں پاکستان کی قومی اسمبلی کیوں فیصلہ کرے گی؟ لیکن جب کوئی گروہ پٹڑی سے اتر ناشروع کرے تو انجام ایسی خلاف عقل باتوں پر ہوتا ہے۔اب اٹارنی جنرل صاحب نے بیان کیا کہ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ جب سوڈان سے سماٹرا تک مسلمان غیروں کے تسلط کے خلاف جد وجہد کر رہے تھے تو بانی سلسلہ احمدیوں کو انگریزوں نے اپنے مقاصد کے لئے کھڑا کیا۔اس پس منظر میں جب بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی شرائط بیعت میں یہ شرط بھی رکھی کہ بیعت کرنے والے حکومتِ برطانیہ سے وفادار رہیں گے اور اس طرح حکومت برطانیہ سے وفاداری کو جزو ایمان بنا لیا تو اس کے خلاف مسلمانوں میں بہت ردّ عمل ہوا جو کہ غیر ملکی حکومت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔اب اٹارنی جنرل صاحب بڑے اعتماد سے جماعت احمدیہ کے خلاف جھوٹے الزامات کی فہرست سنا رہے تھے کیونکہ اب یہاں پر جماعت احمدیہ کا وفد موجود نہیں تھا۔اب وہ ممبران اسمبلی بیٹھے تھے جن کو سچائی سے کوئی