دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 517
517 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جب اس بابت پروفیسر غفور صاحب سے سوال کیا تو پہلے تو وہ سوال کو سمجھ نہیں پائے اور ہم سے دریافت کیا کہ آپ کو کیسے معلوم ہے کہ یہ سوالات کئے گئے۔جب ہم نے غیر متعلقہ سوالات کی مثالیں دے کر سوال کو واضح کیا تو ان کا جواب تھا۔” یہ Relevant چیزیں نہیں ہیں۔Relevant چیزیں بالکل دوسری ہیں۔Relevant چیزیں وہی ہیں کہ قادیانیوں کا Status کیا ہے؟ ان کی پوزیشن کیا ہے؟ ختم نبوت کے معاملے میں ان کا اپنا عقیدہ کیا ہے؟ یہی چیزیں Relevant تھیں۔اسی پر بحث ہوئی ہے ساری۔“ ان کے جواب سے ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک جن سوالات کا ہم نے حوالہ دیا تھا وہ ان کے نزدیک بھی متعلقہ سوالات نہیں تھے۔جب کہ یہ سوالات بار بار اس کارروائی کے دوران کئے گئے تھے۔لیکن پڑھنے والے خود دیکھ سکتے ہیں کہ ان کا یہ کہنا درست نہیں کہ Relevant موضوعات پر ساری بحث ہوئی تھی۔ہم اس ساری بحث کو بیان کر چکے ہیں۔ان میں سے اکثر سوالات تو مقررہ موضوع سے دور کا تعلق بھی نہیں رکھتے۔البتہ جب یہ سوال ہوا کہ احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام کیا سمجھتے ہیں تو یہ گمان ہوتا تھا کہ شاید یہ بحث اپنے اصل موضوع پر آ جائے مگر افسوس ایک بار پھر غیر متعلقہ سوالات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔اصل موضوع تو یہ تھا کہ جو شخص آنحضرت مالی لی نام کو آخری نبی نہیں سمجھتا اس کا اسلام میں وو Status کیا ہے ہم نے انٹرویو میں مکرر پروفیسر غفور صاحب سے سوال کیا کہ کارروائی میں غیر متعلقہ سوالات کیوں کئے گئے۔اس پر پھر ان کا جواب یہ تھا:۔” وہ سارے سوال Relevant ہی تھے۔“