دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 49
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 49 وہ اس بات کو سمجھتے نہیں کہ منافق کا سر تو اس لئے بچا ہوا ہے کہ خدا کہتا ہے کہ نہیں! میں اس کو سزا دوں گا۔تمہاری سزا سے زیادہ سخت سزا دوں گا۔تم خدا کے مقابلہ پر منافق کی بھلا کیا حفاظت کر سکو گے۔منافقت آج کا روگ نہیں یہ تو بہت پر انا روگ ہے۔جماعت احمد یہ بڑے بڑے مشکل مراحل سے گزری ہے اور ہر مرحلے پر بڑے بڑے منافقوں سے اس کا پالا پڑا ہے۔حضرت مصلح موعود کی خلافت کی ابتداء میں جماعت احمدیہ کو منافقوں کے سب سے بڑے فتنہ کا مقابلہ کرنا پڑا۔وہ ایک ایسا فتنہ تھا کہ اس کے بعد کے فتنے اس کا عشر عشیر بھی نہیں تھے۔اس وقت منافقین نے یہ اعلان کیا تھا کہ جماعت کا 95 فیصد حصہ ان کے ساتھ ہے اور صرف 5 فیصد خلافت سے وابستہ ہے۔جماعت کے اندر نفاق کا اس سے بڑا منصوبہ اور کون سا ہو گا۔مگر جماعت احمدیہ نے اپنے اولو العزم امام کی راہنمائی میں اپنی تاریخ کے اس سب سے بڑے فتنے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور منافقین کو اپنے اندر سے اس طرح نکال باہر کیا جس طرح دودھ میں اگر مکھی پڑ جائے تو لوگ اس کو نکال کر باہر پھینک دیتے ہیں۔چنانچہ جب کبھی ایسے حالات پید اہوئے جماعت نے نفاق کے گند کو باہر نکال پھینک دیا اور ہم نے اپنے آپ کو عسل مصفی کی طرح پاک وصاف پایا۔پس اگر اب بھی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ منافقوں کو شہ دے کر یا ان کو چند لاکھ روپے دے کر ، جماعت احمدیہ کے مقابلہ میں ایک نئی تنظیم کھڑی کر کے اور ان کو بعض عمارتوں پر قبضہ دلا کر جماعت احمدیہ کو ناکام بنا دیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔عمارتیں کیا چیز ہوتی ہیں۔پتھر کے بنے ہوئے مکانوں کی حیثیت کیا ہے ان سے بڑھ کر خوبصورت اور پختہ مکانوں کو تو ہم تقسیم ملک کے وقت قادیان میں چھوڑ آئے ہوئے تھے۔“ (5) حضور نے اس ہنگامی مجلس مشاورت میں مخالفین کے یہ تین منصوبے بیان کرنے کے بعد فرمایا: غرض مخالفین اور معاندین نے ان دنوں ہمارے خلاف جو منصوبے بنائے ہیں ان کے متعلق میں نے احباب کو مختصراً بتا دیا ہے تاکہ وہ باخبر رہیں اور حسن عمل پر زور دیں۔تاہم اپنے اعمال صالح پر فخر بھی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ جو ظاہر میں عمل صالح سمجھا جاتا ہے انسانی آنکھ بعض دفعہ اس کے اندر کے کیڑے کو نہیں دیکھ سکتی۔چنانچہ ایسا عمل انجام کار رد کر دیا جاتا ہے۔وہ عند اللہ قبول نہیں ہو تا۔ہمیں تو صرف ایک چیز کا پتہ ہے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں بتانے کے لائق ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔