دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 48
48 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری رؤیا میں دی تھی ، وہ دو سیاسی جماعتوں نے مل کر بنایا ہے۔اور وہ منصوبہ یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں امام جماعت اور بہت سے افراد جماعت کو قتل کر دیا جائے۔حضور نے فرمایا کہ رویا میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اس منصوبے کو ناکام کر دے گا اور انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا اور فرمایا کہ یہ تو ٹھیک ہے کہ ہمیں کامیابی کی بہت بشار تیں دی گئی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی ذمہ داریاں بھول جائیں۔ہم نے جو تدبیر کرنی ہے اور بیداری کا نمونہ دکھانا ہے اور اپنے مخالف اور معاند کے سامنے یک جہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہے اور اس دنیا سے استغناء کے جو مظاہرے دنیا کو دکھانے ہیں وہ آسمان سے فرشتوں نے آکر نہیں دکھانے یہ تو ہمارا کام ہے کہ ہم حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے کماحقہ تدبیر کریں۔بیداری اور چوکسی ، اتحاد اور اتفاق کا ایسا شاندار مظاہرہ کریں کہ ہمارے مخالفین کو ہمارے خلاف کچھ کہنے یا کرنے کی جرات نہ ہو۔“ (3) وو حضور نے دوسرے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: دوسرا منصوبہ بھی نہایت ہی خبیثانہ منصوبہ ہے۔اس کے متعلق بھی دیر سے خبریں مل رہی تھیں۔جن لوگوں نے اس قسم کا منصوبہ بنایا ہے انہوں نے دراصل احباب جماعت کو پہچانا نہیں کہ وہ کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔اس منصوبہ کے دو حصے ہیں۔ایک یہ ہے کہ دنیوی عزت و وجاہت یاشان و شوکت یا مال وزر کے بل بوتے پر وہ احباب جماعت کے سروں کو اپنے سامنے جھکا دیں اور بزعم خود جماعت کو اتناتنگ کریں کہ دوست ان کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو جائیں۔ایسے لوگ جو اس قسم کے منصوبے بناتے ہیں کتنے نالا ئق اور بیوقوف ہیں۔وہ سمجھتے نہیں کہ ہم تو صرف ایک آستانہ پر جھکتے ہیں۔وہ دیکھتے نہیں کہ ایک ہی در ہے جس پر ہمارا سر جھکتا ہے اور وہ خد اتعالیٰ کا در ہے۔۔۔۔۔۔یہ اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں۔جماعت احمدیہ اور اس کے افراد نہیں کیا وقعت دیتے ہیں۔سیاسی پارٹیوں کے نام پر باہر سے پیسے کھا کر وہ ہم پر رعب جماتے ہیں کہ وہ یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے۔(4) حضور نے مخالفین کے تیسرے منصوبے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرمایا: " تیسرا منصوبہ ربوہ میں منافقین کے ذریعہ ایک متوازی جماعت قائم کرنے سے متعلق ہے۔خدا تعالیٰ نے ایسا تصرف فرمایا کہ مجھ تک ان کی بات پہنچ گئی۔ہمارے مخالفین کچھ منافقوں کو ساتھ ملا کر ربوہ میں ہی ان کا مرکز بنا کر ایک متوازی جماعت قائم کر کے جماعت احمدیہ کو دو حصوں میں بانٹ دینا چاہتے ہیں تا کہ اس طرح جماعت احمدیہ کی طاقت ٹوٹ جائے مگر