دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 501 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 501

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 501 آنحضرت نہیں کہ قرآنی آیات امت میں کسی کو الہام ہوں اور دوسرے اس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ جو آیات ت صلى اللی علم کی شان میں تھیں بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے انہیں اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔اس اعتراض سے یہی تاثر ملتا ہے کہ معترض کو اسلامی لٹریچر پر کچھ زیادہ دسترس نہیں ہے کیونکہ تاریخ اسلام ان مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ امت کے مختلف اولیاء کو قرآنی آیات الہام ہوئیں۔تو اس طرح یہ اعتراض ان سب عظیم اولیاء پر بھی اُٹھتا ہے۔اگر وہاں پر موجود مخالفین کے ذہن میں یہ خیال تھا کہ یہ اعتراض اُٹھا کر انہوں نے کوئی بڑا تیر مارا ہے تو یہ خوش فہمی جلد دور ہو گئی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " نے فرمایا کہ ”جہاں تک آیات قرآنی بطور وحی کے امت پر نازل ہونے کا تعلق ہے ،ہمارا امتِ مسلمہ کا لٹریچر اس سے بھرا پڑا ہے۔“ اس کے بعد حضور نے اس کی مثالیں دینے کا سلسلہ شروع کیا۔حضور نے پہلی مثال حضرت سید عبد القادر جیلانی کی دی۔اس کے بعد حضور نے عبداللہ غزنوی صاحب کی مثالیں دینی شروع کیں کہ انہیں بھی بہت سی قرآنی آیات الہام ہوئی تھیں۔چونکہ ابتداء ہی سے یہ واضح ہوتا جا رہا تھا کہ یہ ایک بے وزن اعتراض کیا گیا ہے، اس لیے سپیکر صاحب نے یہی مناسب سمجھا کہ اس جواب کو کسی طرح مختصر کیا جائے۔انہوں نے دریافت کیا کہ So the answer is اس پر حضور نے یہ اصولی موقف بیان فرمایا:۔”میں Accept کرتا ہوں۔امتِ مسلمہ کے عام اصول کے مطابق Accepted قرآنِ کریم کی آیات امت کے اولیا ء پر نازل ہو سکتی ہیں۔“