دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 500
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 500 لفظ ” آخرۃ “ کا ترجمہ hereafter کیا ہے۔یہاں وہ اپنی بات کی نفی خود ہی کر گئے۔hereafter کا مطلب اگلا جہاں نہیں بلکہ اس کا مطلب ہے from now on یا after now (دیکھئے International Readers Dictionary) حضور نے اس کے جواب میں قرآنِ کریم، لغت عربی اور تفاسیر سے اس لفظ کے مطالب پر روشنی ڈالی۔اس مرحلہ پر لاچار ہو کر مولوی ظفر انصاری صاحب یہ بحث اُٹھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ پرانے مفسرین نے اس آیت کا یہ مطلب نہیں لیا۔اس پر حضور نے فرمایا:۔" اگر آپ کے اس بیان کا یہ مفہوم ہے کہ مفسرین جو پہلے گزر چکے ان کے علاوہ قرآن کریم کی کوئی تفسیر نہیں ہو سکتی تو ہم یہ عقیدہ نہیں رکھتے۔۔۔حضور نے واضح فرمایا کہ نہ صرف قرآنِ کریم کی آیات کے نئے مطالب بیان کئے جا سکتے ہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں الہام اور اللہ تعالیٰ سے مکالمہ مخاطبہ کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا اور امتِ مسلمہ کے تمام صلحاء اور اولیاء کا یہی عقیدہ رہا تھا۔اس پر مولوی ظفر انصاری صاحب یہ عجیب نظریہ پیش کر رہے تھے کہ صوفیاء سے مکالمہ مخاطبہ تو اور بات ہے لیکن اب شریعت اسلامی میں ”وحی“ کی ایک اصطلاح بن گئی ہے۔اب اس کے معنی متعین ہو گئے ہیں اور انگریزی کی ڈکشنری میں بھی یہی لکھا ہے۔ذرا ملاحظہ کیجئے کہ قرآنِ کریم میں تو یہ لکھا ہے کہ وحی تو شہد کی مکھی کو بھی ہوتی ہے اور نیک عورتوں کو بھی ہو سکتی ہے، لیکن مولوی صاحب مصر ہیں کہ اب یہ ایک اور قسم کی اصطلاح بن گئی ہے اور دلیل کیا لائے کہ انگریزی کی ڈکشنری میں بھی یہی لکھا ہے۔اس کے بعد مولوی ظفر انصاری صاحب نے کچھ مثالیں دے کر یہ اعتراض اٹھایا کہ مرزا صاحب نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہیں قرآنی آیات الہام ہوئی ہیں۔اس سے وہ دو نتائج نکال رہے تھے۔ایک تو یہ کہ یہ ٹھیک