دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 475 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 475

475 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری دوست رکھتا ہے۔اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوامی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچی جائے کیونکہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی۔یعنی شبہ گذرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہو گیا کیونکہ جو آخری کام آپ کا تھا وہ اسی زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا۔اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں۔زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لئے اسی اُمت میں سے ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اسی کا نام خاتم الخلفاء ہے۔پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اُس کے آخر میں مسیح موعود ہے اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دُنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا نہ ہولے کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اُسی نائب النبوت کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے۔هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ (التوبة : 33) اس ساری عبارت میں تو آنحضرت لی لی لی لی ایم کی بے مثال فضیلت کا ذکر ہے۔اس میں تو بیان کیا گیا ہے کہ آپ کا زمانہ تو قیامت تک چلے گا اور قیامت تک آپ کا فیضان جاری رہے گا۔مکمل حوالہ پڑھنے کے بعد حضور مندرجہ بالا آیت کریمہ کی تفسیر پر جو سورۃ صف کی دسویں آیت ہے ایک لطیف بحث اُٹھائی۔اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ” وہ (خدا) ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے“۔آپ نے سابقہ معتبر تفاسیر کے حوالوں سے یہ ثابت کیا کہ یہ مضمون جب بھی قرآنِ کریم میں بیان ہوا ہے تو مفسرین نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ تمام ادیان پر غالب آنے کی پیشگوئی نزول عیسی