دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 474 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 474

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 474 خلیفة المسیح الثالث نے اسی وقت ساری عبارت پڑھ کر سارا مضمون بیان فرمایا جس سے یہ اعتراض خود بخود غلط ثابت ہو جاتا تھا۔اس سے قبل کی عبارت یہ ہے۔وہ خدا جس کو کسی نے بھی نہیں دیکھا اُس پر یقین لانے کے لئے بہت گواہوں اور زبردست شہادتوں کی حاجت ہے جیسا کہ دو آیتیں قرآن شریف کی اس واقعہ پر گواہ ہیں۔اور وہ یہ ہیں:۔وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ (فاطر :25) فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلّ أُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ - (النساء : 42) یعنی کوئی قوم نہیں جس میں ڈرانے والا نبی نہیں بھیجا گیا یہ اس لئے کہ تا ہر ایک قوم میں ایک گواہ ہو کہ خدا موجود ہے اور وہ اپنے نبی دنیا میں بھیجا کرتا ہے۔اور پھر جب اُن قوموں میں ایک مدت دراز گذرنے کے بعد باہمی تعلقات پیدا ہونے شروع ہو گئے اور ایک ملک کا دوسرے ملک سے تعارف اور شناسائی اور آمد و رفت کا کسی قدر دروازہ بھی کھل گیا اور دُنیا میں مخلوق پرستی اور ہر ایک قسم کا گناہ بھی انتہا کو پہنچ گیا۔تب خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں بھیجا تا بذریعہ اس س تعلیم قرآنی کے جو تمام عالم کی طبائع کے لئے مشترک ہے دنیا کی تمام متفرق قوموں کو ایک قوم کی طرح بناوے اور جیسا کہ وہ واحد لا شریک ہے اُن میں بھی ایک وحدت پیدا کرے اور تا وہ سب مل کر ایک وجود کی طرح اپنے خدا کو یاد کریں اور اس کی وحدانیت کی گواہی دیں اور تا پہلی وحدت قومی جو ابتدائے آفرینش میں ہوئی اور آخری وحدت اقوامی جس کی بنیاد آخری زمانہ میں ڈالی گئی یعنی جس کا خدا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے کے وقت میں ارادہ فرمایا۔یہ دونوں قسم کی وحدتیں خدائے واحد لا شریک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر دوہری شہادت ہو کیونکہ وہ واحد ہے اس لئے اپنے تمام نظام جسمانی اور روحانی میں وحدت کو