دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 459
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 459 اشک خون یعنی ترکیب بند جو حضور ملکہ معظمہ مرحومہ محترمہ کے انتقال پر ملال پر مسلمانانِ لاہور کے ایک ماتمی جلسہ میں پڑھا گیا۔از خاکسار اقبال ابتدائی کلام اقبال به ترتیب مہ و سال۔مرتبہ ڈاکٹر گیان سنگھ۔ناشر اقبال اکادمی پاکستان۔ص 89 تا95) ان اشعار کو پڑھ کر اٹارنی جنرل صاحب کا یہ دعویٰ بے بنیاد معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف چند مسلمان علماء تھے جو کہ انگریز حکومت کی تعریف کر رہے تھے۔حقیقت یہ تھی کہ ایک خوفناک دور کے بعد ایک مستحکم۔حکومت ہندوستان میں قائم ہوئی تھی اور اس کے قیام سے مسلمانوں کی مذہبی آزادی بحال ہوئی تھی ان کو ایک دردناک عذاب سے نجات ملی تھی۔اس وقت سب مسلمان ہندوستان میں برطانوی حکومت کے قیام کا خیر مقدم کر رہے تھے اور اس کے قیام کو اپنی بقاء کے لئے ضروری سمجھتے تھے۔اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ آج کے دور میں بالخصوص پاکستان میں لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا ہے کہ ان کے مطابق جب مہدی موعود کا ظہور ہو گا تو وہ جنگ کے ذریعہ کفار کو محکوم بنا لیں گے اور سب مسلمان ہو جائیں گے۔اٹارنی جنرل صاحب اس بات پر بہت حیرت کا اظہار کر رہے تھے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ مہدی کا ظہور ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ جو اس وقت حکومت قائم ہے اس کی اطاعت کرو ، باغیانہ رویہ اختیار نہ کرو ،امن میں خلل نہ ڈالو، اسلام کو تبلیغ اور پیار سے پھیلاؤ اور ان خیالات کی تشہیر دوسرے ممالک میں بھی کرتا ہے۔یہاں اس دلچسپ حقیقت کا ذکر ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ کے مخالفین کے بنیادی عقائد بھی حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ ہی تبدیل ہو جاتے ہیں۔جب انگریز یہاں حکمران تھا تو مہدی کے ظہور کے بارے