دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 450 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 450

450 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کی حفاظت کے لیے اور ان کی مذہبی آزادی کے لئے ضروری ہے۔جیسا کہ بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ صرف ایک سیاسی جماعت تھی جسے ہندوستان کے مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت کہا جا سکتا تھا اور وہ مسلم لیگ تھی۔اس کے طے کردہ اغراض و مقاصد پڑھ لیں تو بات واضح ہو جاتی ہے۔ان میں سے پہلا مقصد ہی یہ تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں میں انگریز حکومت سے وفاداری کے خیالات میں اضافہ کیا جائے اور انہیں قائم رکھا جائے۔اس کا حوالہ ہم پہلے ہی درج کر چکے ہیں۔اب یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہمارا مفاد اسی میں ہے کہ ہم حکومت سے تعاون کریں اور وفاداری کا رویہ دکھائیں بلکہ جیسا کہ پہلے حوالے گزر چکے ہیں وہ تو حکومت سے پر زور مطالبات کر رہے تھے کہ باغیانہ طرز دکھانے والوں کو طاقت کے ذریعہ دبائے اور ان کے جلسوں میں یہ اعلان ہوتا تھا کہ ہم نے تو کبھی حکومت سے مستحکم عقیدت میں کبھی پس و پیش کیا ہی نہیں۔اس پس منظر میں یہ اعتراض ہی نامعقول ہے کہ جماعت احمدیہ نے انگریز حکومت سے تعاون کیوں کیا ؟ اور ان کی تعریف کیوں کی ؟ سوال تو یہ اُٹھنا چاہئے کہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں نے خود مسلم لیگ نے ان کے بڑے بڑے علماء نے انگریز حکومت سے وفاداری کا بار بار اعلان کیوں کیا؟ اس لیے کہ ان کے آنے سے قبل خاص طور پر اس علاقہ میں جو اب پاکستان ہے مسلمان بہت پسی ہوئی حالت میں زندگی گزار رہے تھے اور ان کی مذہبی آزادی بالکل سلب کی جا چکی تھی اور انگریزوں کی مستحکم حکومت قائم ہونا ان کے حقوق کی بحالی کا باعث بنا تھا۔ہندوستان کے مسلمانوں کی غالب اکثریت کو انگریزوں سے جہاد کا خیال 1947ء کے بعد آیا تھا جب انگریز بر صغیر سے رخصت ہو چکا تھا۔اس سے قبل تو ہندوستان کے لاکھوں مسلمان اور ہندوستان کے دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی ، پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے موقع پر فوج میں بھرتی ہو کر انگریزوں کی فوج میں شامل ہو کر ان کی طرف سے جنگ کرنے کے لیے جاتے تھے۔