دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 372 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 372

372 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری نشان نہیں ملتا۔خود انہی کی ایک اور کتاب یہ ثابت کر رہی ہے کہ اللہ وسایا صاحب نے تحریف شدہ کارروائی شائع کی تھی۔اور پھر حضور کا جملہ صرف یہ تھا کہ میرے علم میں کوئی غیر احمدی اس معیار کا نہیں ہے اور کیا معیار پیش نظر تھا اس کا ذکر ہم کر چکے ہیں۔(تحریک ختم نبوت ، جلد سوئم ،مصنفہ اللہ وسایا، ناشر عالمی مجلس ختم نبوت ملتان ص847) ایک اور امر قابل ذکر ہے کہ یحیی بختیار صاحب کے انٹرویو میں بھی حقیقی مسلمان کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، مسلمان کے نہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ پچیس سال سے پاکستان کی قومی اسمبلی کے اہم ممبران کارروائی کے اس حصہ کے متعلق کیا پُر مغز نکات بیان فرما رہے ہیں۔ہم ذکر کر چکے ہیں کہ دوسری طرف کا نقطہ نظر معلوم کرنے کے لئے ہم نے بعض ایسی اہم شخصیات کا انٹرویو بھی کیا جو اس موقع پر موجود تھیں اور انہوں نے بھی کارروائی کے اس مرحلہ کے متعلق کچھ نہ کچھ بیان فرمایا۔یہ اس لئے ضروری تھا کہ ہم ان معزز اراکین اسمبلی سے براہ راست مل کر اس کے متعلق ان کی رائے ریکارڈ کر لیں تاکہ کوئی واسطہ بیچ میں نہ ہو۔ڈاکٹر مبشر حسن صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہ اس وقت قومی اسمبلی میں موجود تھے۔ڈاکٹر صاحب پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں سے ہیں۔اس وقت کابینہ کے ایک اہم رکن تھے۔بعد میں وہ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل بھی رہے۔انہوں نے ہم سے انٹرویو کے دوران جو بیان کیا وہ ہم لفظ بلفظ نقل کر دیتے ہیں۔ڈاکٹر مبشر حسن صاحب فرماتے ہیں:۔مبشر حسن صاحب " لیکن وہ جو ریزولیشن تھا ایک اور بات جو ہے وہ مجھے اس کا بڑا قلق ہے۔اور اس ریزولیشن کے پاس ہونے میں اس بات نے بہت کردار ادا کیا۔وہ یہ ہے کہ آپ کو علم ہے کہ مسٹر بھٹو نے کہا