دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 325
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 325 اس جملے سے بیچارے مولوی صاحب کی بچگانہ خوشی ظاہر ہوتی ہے۔وہ اس خیال میں تھے کہ آج اللہ اللہ کر کے تیسرے دن ہمیں بھی کوئی خوشی ملی ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ سپیکر صاحب ان کی خوش فہمی میں شریک نہیں تھے کیونکہ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بعد میں دیکھیں گے۔بہر حال ان کی جو بھی خوش فہمی تھی جلد رفع ہو گئی کیونکہ وقفہ کے بعد کارروائی شروع ہوئی تو ایسا تصرف ہوا کہ حضرت خلیفة المسیح الثالث نے جن الفاظ کے لغوی معانی کے متعلق بات ہوئی تھی ان پر مختصر تحقیق کے بیان سے بات شروع فرمائی۔حضور نے حجت اور اتمام حجت کے الفاظ کے متعلق قرآنِ کریم سے مثالیں دیں ، مفردات امام راغب اور لسان العرب جیسی عظیم لغات سے ان الفاظ کے مطالب بیان فرمائے، امام زہری کے اقوال پڑھ کر سنائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر سے اس کے بارے میں اقتباس پڑھا۔اس خفت کے بعد اٹارنی جنرل صاحب یا ان کی مدد کرنے والوں نے کسی لغت کا حوالہ دینے کی کوشش نہیں پھر حضور نے فرمایا کہ آپ نے ایک کتاب کلمۃ الفصل سے حوالہ دیا ہے اور اسے حضرت خلیفة المسیح الثانی کی طرف منسوب کیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کلمة الفصل حضرت خلیفة المسیح الثانی کی کتاب ہے ہی نہیں بلکہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی کتاب ہے۔پھر حضور نے وہ پورا حوالہ پڑھ کر سنایا جس سے کیا گیا اعتراض خود بخود ہی رفع ہو جاتا تھا۔معلوم ہوتا ہے اب تک اٹارنی جنرل صاحب کو یقین نہیں آ رہا تھا انہوں نے جو حوالہ دیا تھا اس میں وہ مصنف کا نام غلط بتا گئے ہیں یا پھر وہ اب خفت مٹانے کی کوشش کر رہے تھے۔جب انہوں نے یہ سنا کہ یہ کتاب حضرت خلیفة المسیح الثانی کی تصنیف نہیں ہے تو انہوں نے فوراً کہا:۔”ان کی compilation ہے۔“