دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 320
وو دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 320 اس نے مجھے پیدا کر کے ہر ایک گزشتہ نبی سے مجھے اس نے تشبیہ دی کہ وہی میرا نام رکھ دیا۔چنانچہ آدم، ابراہیم ، نوح ، موسیٰ ، داؤد ، سلیمان، یوسف ، بیٹی ، عیسی وغیرہ یہ تمام نام براہین احمدیہ میں میرے رکھے گئے اور اس صورت میں گویا تمام انبیاء گزشتہ اس امت میں دوبارہ پیدا ہو گئے یہاں تک کہ سب کے آخر میں مسیح پیدا ہو گیا اور جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔“ ( نزول المسیح ایڈیشن اول ص 4) حضور نے نشاندہی فرمائی کہ یہاں یہ تو نہیں لکھا کہ یہ نام میں نے رکھا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس جگہ پر بالکل مختلف مضمون بیان ہو رہا تھا اور وہ یہ کہ ہر مامور من اللہ کے مخالف ، انبیاء گزشتہ کے مخالفین کی صفات اپنے اندر رکھتے ہیں اور ان سے مماثلت پیدا کر لیتے ہیں اور یہ مضمون حدیث نبوی میں بھی بیان ہوا ہے۔رسولِ کریم صلی الی نیلم نے فرمایا ہے کہ میری امت پر ایک زمانہ آئے گا جب اس کے لوگ یہود سے مکمل مشابہت پیدا کرلیں گے۔اگر یہ زمانہ مسیح موعود کے دور میں نہیں آنا تھا تو پھر اور کب آنا تھا؟ اس سیشن میں مفتی محمود صاحب نے ایک اور طریقہ استعمال کیا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک عربی عبارت کی اور اس کا خود وہ ترجمہ کر کے سنایا جس سے وہ جماعت احمدیہ کے خلاف متعصبانہ جذبات کو بھڑکا سکیں۔عربی عبارت یہ تھی " تِلْكَ كُتُبْ يَنْظُرُ إِلَيْهَا كُلُّ مُسْلِمٍ بِعَيْنِ الْمَحَبَّةِ وَ الْمَوَدَّةِ وَ يَنْتَفِعُ مِنْ مَعَارِفِهَا وَ يَقْبِلُنِي وَ يُصَدِّقُ دَعْوَتِى إِلَّا ذُرِّيَّةَ الْبَغَايَا الَّذِيْنَ خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَقْبِلُونَ اور اس کا ترجمہ مفتی محمود صاحب نے خود یہ کر کے سنایا ،، آئینہ کمالات اسلام صفحہ 548-547)