دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 319 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 319

319 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اٹارنی جنرل صاحب نے حضور سے دریافت فرمایا کہ کیا یہ conclude ہو گیا ہے؟ اس پر حضور نے فرمایا کہ اور حوالے بھی ہیں مگر میں اب انہیں چھوڑتا ہوں۔میرے خیال میں بات واضح ہو گئی ہے۔اس کے بعد ہم کارروائی کے تسلسل کے حساب سے ہی جاری رکھتے ہیں۔رہم اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے جن خطوط پر بحث چلانے کی کوشش کی اس کا اندازہ ان مثالوں سے ہو جاتا ہے جو انہوں نے پیش کیں۔اب تک وہ اس موضوع پر گفتگو شروع کرنے کی ہمت اپنے اندر نہیں پا رہے تھے جس موضوع کے بارے میں اس سپیشل کمیٹی نے کام کرنا تھا۔اب تک جن خطوط پر انہوں نے بحث لانے کی کوشش کی تھی انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اب انہوں نے وہی حکمت عملی اپنائی جو عموماً جماعت کے مخالفین اپناتے ہیں یعنی کچھ غلط بیانی کر کے اور کچھ سیاق و سباق کے بغیر حوالے پیش کر کے موقع پر موجود لوگوں کے جذبات یہ کہہ کر بھڑکاؤ کہ مرزا صاحب نے تمہارے متعلق سخت زبانی کی انتہا کر دی ہے تا کہ ان میں سے کوئی متوازن سوچ کا مظاہرہ نہ کر سکے۔اس کے لئے سب سے پہلے انہوں نے ”نزول المسیح“ کا حوالہ پیش کیا۔اب شائع ہونے والی کارروائی میں اس حوالے کو inverted commas میں لکھا گیا ، اس سے یہی ظاہر ہے کہ اس وقت اٹارنی جنرل صاحب یہی تاثر دے رہے تھے کہ میں ” نزول المسیح “ کے معین الفاظ پڑھ ہوتا رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ”نزول المسیح “ کے صفحہ 4 پر لکھا ہے: ”جو شخص میرا مخالف ہے وہ عیسائی یہودی مشرک اور جہنمی ہے۔“ کہ ”نزول المسیح میں یہ معین الفاظ موجود نہیں اور اصل الفاظ جو وہاں پر درج ہیں وہ بالکل یہ ہے مختلف مضمون بیان کر رہے ہیں۔اصل الفاظ یہ ہیں: