دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 312 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 312

312 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ایک ہی طرح کے سوالات ہیں اور ایک اور سوال کیا کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے سعد اللہ لدھیانوی کے بارے میں یہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ ہم یہ حوالہ جات چیک کر کے جواب دیں گے۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے کچھ اور حوالہ جات پڑھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریروں میں مخالفین کے متعلق سخت الفاظ استعمال کیے ہیں۔اس کے جواب میں بھی حضور نے فرمایا کہ یہ سہ حوالہ جات نوٹ کرا دیئے جائیں ان کے جوابات اکٹھے دیئے جائیں گے۔اس اعتراض کو پرکھتے ہوئے اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ جن لوگوں کا نام لے کر یہ اعتراض کیا جا رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے متعلق سخت الفاظ استعمال کیے ہیں، خود ان مخالفین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کیا الفاظ استعمال کئے تھے۔پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی مثال لے لیں۔انہوں نے اپنی کتاب سیف چشتیائی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق لکھا تھا ”الغرض اکثر الہامات ان کے تو کاذب ہونے کی وجہ سے ان کو مفتری علی اللہ قرار دیتے ہیں اور بعض الہامات گو کہ فی نفسھا صحت رکھتے ہیں مثل آیت قرآنیہ ملہمہ کی مگر ان سے الٹا نتیجہ نکالنے کے باعث سے ان پر پوری جہالت کا دھبہ لگاتے ہیں اور مع هذا تلبیس ابلیس ہونے میں بھی کوئی شک نہیں رہتا۔“ پھر وہ اسی کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ تین اقسام کے ہیں (1) الہامات کاذبہ جن کے کاذب ہونے پر وہ خود ہی گواہ ہیں (2) الہامات کا ذبہ جن کو بوجہ نہ پورا نکلنے ان کے کاذب سمجھا گیا ہے(3) الہامات صیاد یہ جن کا ابنِ صیاد کے الہام کی طرح اگر سر ہے تو پاؤں نہیں اگر پاؤں ہیں تو سر نہیں۔۔۔(4) الہامات شیطانیہ انسیہ جن کو کسی آدمی پڑھے ہوئے نے اس کے قلب میں ڈال دیا ہے(5) الہامت شیطانیہ جنیہ (6) الہامات شیطانیہ معنویہ “ اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یہ بد زبانی کی ”قادیانی صاحب نے اس مقام پر بڑی چالا کی اور دجل سے کام لیا۔“ (68)