دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 288 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 288

288 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ہے۔اس بحث کے دوران حضور نے یہ اصول بیان فرمایا اگر ایک شخص کی تحریریں جو مختلف کتب میں پائی جاتی ہیں اگر ان سب کو سامنے رکھا جائے تو ہی صحیح نتیجہ نکالا جا سکتا ہے۔اس کے بعد ایک بار پھر کفر ، ایمان اور دائرہ اسلام جیسے الفاظ کے بارے میں بحث ہوئی جس کا ایک اجتماعی جائزہ ہم پہلے ہی لے چکے ہیں۔اس روز کی کارروائی کے آخر میں یعنی اس سیشن میں جو کہ رات آٹھ بجے شروع ہوا حضور نے فرمایا کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی توہین کے الزام کے بارے میں ہمارے جوابات تیار ہیں اور پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی توہین کے الزام کے بارے میں فرمایا۔نے "60-1850 ء اور 1880ء کے درمیان حکومت برطانیہ اپنے ساتھ ایک زبر دست فوج پادریوں کی بھی لے کر آئی تھی اور 70ء کے قریب ایک پادری عماد الدین صاحب نے ایک مضمون امریکہ لکھ کر بھیجا جس میں انہوں یا کہ عنقریہ ، وہ وقت آنے والا ہے کہ سارا ہندوستان عیسائی ہو جائے گا اور ہندوستان کے مسلمان بھی عیسائی ہو جائیں گے اور اگر کسی شخص کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ کسی مسلمان کو دیکھے تو اس کی خواہش پوری نہیں ہو گی اور اس وقت اتنی جرات پیدا ہوئی بعض پادریوں میں کہ انہوں نے یہ اعلان کیا کہ نعوذ باللہ خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا مکہ معظمہ پر لہرایا جائے گا۔اس وقت دین متین کے دفاع کے لئے اور اسلام کے جوابی حملوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے متعدد علماء کو پیدا کیا جن میں سے میں تین نام لوں گا: نواب صدیق حسن خان صاحب ، مولوی آلِ حسن صاحب، مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی۔ان کے علاوہ احمد رضا صاحب کے بھی حوالے ہیں اور بھی تھے اور حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ بھی تھے اور اتنی زبر دست جنگ شروع ہوئی کہ اس کا اندازہ لگانا اس زمانہ کے لوگوں کے لئے مشکل عنقریب ہے۔