دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 287 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 287

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 287 یہ کارروائی ان ممبران کی امیدوں کے بالکل بر عکس جا رہی ہے۔اس کا اندازہ اس سیشن کے آخری تبصرہ سے لگایا جا سکتا تبصرہ ممبر اسمبلی عبد الحمید جتوئی صاحب کا تھا انہوں نے کہا کہ جو سوال کیا جاتا ہے۔یہ ہے جماعت کے وفد کے پاس اس کا لکھا ہوا جواب ہوتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوالات Leak ہو رہے ہیں اور ممبران اسمبلی میں سے کوئی ایسا کر رہا ہے۔اس پر دو اور ممبران نے ان کی تائید کی۔حقیقت یہ تھی کہ جو اعتراضات ممبران کمیٹی کی طرف سے بالخصوص جماعت کے مخالفین کی طرف سے پیش کیے جا رہے تھے ، وہ وہی تھے جو تقریباً ایک صدی سے جماعت احمدیہ پر کیے جا رہے تھے۔اور اس وقت سے ہی ان کا تسلی بخش جواب دیا جا رہا تھا۔اور ان کا جواب ممبرانِ وفد نے پہلے سے ہی تیار کیا ہوا تھا۔نئی بات یہ تھی کہ جتنے غلط حوالے اب پیش کیے جا رہے تھے ، شاید ہی پہلے مسلسل اتنے غلط حوالے پیش کیے گئے ہوں۔لنچ کے وقفہ کے بعد دوبارہ کارروائی شروع ہوئی۔اب تک غلط حوالے پیش ہونے کی وجہ سے جو صورت حال پیدا ہوئی تھی، اب اس کی درستگی کے لئے یہ تدبیر کی گئی کہ پیکر صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ کیوں نہ مولانا عطاء اللہ صاحب کو کتب خانہ کا انچارج بنا دیا جائے ؟ اور پھر عطاء اللہ صاحب کو کہا کہ آپ کتب خانہ کے انچارج ہو جائیں۔جب وقفہ کے بعد کارروائی شروع ہوئی تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث" نے آغاز اسی عربی شعر سے فرمایا جس کا ابھی ذکر کیا گیا تھا اور فرمایا کہ اس سے پہلے جو اشعار ہیں وہی اس بات کو واضح کر دہتے ہیں کہ کیا مضمون بیان ہو رہا ہے۔یہ ذکر اس بات سے شروع ہوتا ہے کہ تم گمان کرتے ہو کہ حسین تمام مخلوق کا سردار ہے اور تمام انبیاء ان کی شفاعت سے نجات پائیں گے اور کتے جائیں گے اور اس شعر میں حسینم کے الفاظ اس بخشے بات کو واضح کر دیتے ہیں کہ یہاں ایک مخصوص گروہ کے غلط عقائد کا رد کر کے ان کے تصور کا ذکر کیا جا رہا