دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 283
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 283 جماعت کا وفد تو زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتا تھا کہ کارروائی کے اختتام کے بعد متعلقہ کتب میں سے حوالے چیک کر کے اگلے روز جواب دے دیتا۔وو سوالات پیش کرنے والے ممبران اسمبلی کو اب تک جو سیکی اُٹھانی پڑی تھی ، اب انہوں نے ایک نئے ا عزم کے ساتھ اس کے ازالے کی کوشش شروع کی۔اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک عربی شعر کا ترجمہ پڑھا اور ایک ممبر اسمبلی عبد العزیز بھٹی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ” نزول المسیح" جماعت کے وفد کے سامنے رکھ دی اور کہا کہ اس کے صفحہ 96 پر یہ لکھا ہوا ہے پڑھ کر تصدیق کر دیں۔جماعت کے وفد نے کچھ دیر اس صفحہ کا جائزہ لیا پھر حضور نے سپیشل کمیٹی سے فرمایا کہ یہ عبارت تو اس صفحہ پر موجود ہی نہیں۔تھوڑی ہی دیر میں سوالات کرنے والوں کو شرمندگی پر شرمندگی اُٹھانی پڑ رہی تھی۔سپیکر صاحب نے کہا۔۔بھٹی صاحب! آپ نے یہ کتاب دی ہے صفحہ 96 پر نہیں مل رہا۔آپ pinpoint کریں، اس صفحہ کو underline کریں۔وہ کہتے ہیں کہ صفحہ 96 پر نہیں مل رہا۔“ معلوم ہوتا ہے کہ اس مرحلہ پر عبدالعزیز بھٹی صاحب تو کوئی کارروائی نہ دکھا سکے لیکن اب نورانی صاحب کو خیال آیا کہ وہ اس ڈولتی ہوئی کشتی کو بچانے کے لئے آگے بڑھیں اور سپیکر صاحب کو کہا کہ وہ اس کے ازالے کے لئے یہ عبارت ” براہین احمدیہ “ سے پیش کر سکتے ہیں لیکن سپیکر صاحب اس پیشکش سے زیادہ مطمئن نہیں تھے۔انہوں نے کہا " نہیں! نہیں! ایک سیکنڈ تشریف رکھیں۔جب آپ نے اپنا ریفرنس پوچھا تو آپ اس ریفرنس پر rely کریں گے۔“