دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 276 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 276

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 276 نے یہ اعتراض اٹھایا کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی الیہ کی عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور تھا کہ اس میں سور کی چربی پڑتی ہے۔اس اعتراض کو پڑھ کر یہ تاثر ملتا ہے کہ سوالات کرنے والے اس بات پر تو تلے ہوئے تھے کہ جماعت احمدیہ کے لٹریچر پر اور عقائد پر ہر طرح کا اعتراض کریں جبکہ انہیں اسلامی لٹریچر پر بھی کوئی خاص دسترس نہیں تھی ورنہ اتنا بو دا اعتراض کرنے کی غلطی نہ کرتے۔سب سے قبل حضرت خلیفة المسیح الثالث " نے صحیح عبارت پڑھ کر سنائی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ بیان فرما رہے ہیں کہ دین میں وہم جائز نہیں ہے اور صرف شک کی بناء پر کوئی چیز پلید نہیں ہو جاتی۔آنحضرت اور آپ کے اصحاب عیسائیوں کے ہاتھ کا بنا ہوا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ ، اس میں سور کی چربی پڑتی تھی۔(مشہور تھا ، یہ نہیں کہ پڑی ہوتی تھی۔) اس موضوع پر احادیث کی کتب اور ان کی شروح میں بہت سی روایات درج کی گئیں ہیں اور حضرت خلیفة المسیح الثالث نے سنن ابي داؤد، مسند احمد بن حنبل اور حقیقی سے روایات پڑھ کر سنائیں اور یہ واضح فرمایا کہ یہاں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ محض وہم کی بناء پر کوئی چیز حرام نہیں ہو جاتی۔اس ضمن میں کچھ مثالیں درج کی جا رہی ہیں۔حضرت ابنِ عباس بیان فرماتے ہیں کہ ایک غزوہ میں آنحضور صلی اللہ نیم کے پاس پنیر لایا گیا ہے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ کہاں کا بنا ہوا ہے ؟ صحابہ نے عرض کی کہ فارس کا بنا ہوا ہے اور ہمارا خیال ہے کہ وہ اس میں مردار ڈالتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اللہ کا نام لے کر اُسے چھری سے کاٹو اور کھاؤ۔(مسند احمد بن حنبل جلد اص302)