دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 272
272 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری قابل برداشت ہو گئی جو ان خیالات میں غرق تھے کہ وہ جو کچھ کہیں گے اس کو بغیر کسی بحث کے قبول کر لیا جائے گا۔سب سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد العزیز کھڑے ہوئے۔وہ اس وقت تو خاموش بیٹھے رہے جب کچھ نامکمل حوالوں کو پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی تھی حضرت امام حسین کی تو ہین کی گئی لیکن جب حضرت امام حسین کی شان میں حوالے پڑھے گئے تو انہوں نے فوراً یہ مہمل اعتراض کیا کہ مرزا صاحب جو حوالہ پڑھ رہے ہیں اگر وہ کہیں شائع ہوا ہے تو وہ پڑھ سکتے ہیں۔لیکن اگر خالی یہاں بیٹھ کر اس سوال کے جواب میں وہ کچھ پڑھنا چاہتے ہیں تو شاید قواعد کی رو سے اس کی اجازت نہیں ہے۔سپیکر صاحب نے ان ممبر صاحب کو کہا کہ وہ بعد میں اٹارنی جنرل صاحب سے اس بابت بات کر سکتے ہیں۔اٹارنی جنرل صاحب بھی اس جواب سے کچھ خوش معلوم نہیں ہوتے تھے انہوں نے کہا کہ ” قاعدہ یہ ہے کہ ایک گواہ زبانی گواہی دیتا ہے وہ کسی سوال کے جواب میں پہلے سے تیار شدہ تحریر نہیں پڑھ سکتا۔“ اصل مسئلہ یہ تھا کہ ان حوالوں کے بعد ان کے اُٹھائے گئے الزامات کی عمارت زمین بوس ہوتی نظر آ رہی تھی۔یہ ایک عجیب اعتراض تھا کہ وہ نا مکمل حوالے پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات میں نعوذ باللہ حضرت حسین کی توہین کی ہے۔جب حضرت خلیفة المسیح الثالث نے حضرت امام حسین کی شان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حوالہ پڑھنا شروع کیا تو یہ عجیب نکتہ اٹھایا گیا کہ گواہ تحریر نہیں پڑھ سکتا۔اس موضوع پر جب بحث ہو رہی ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اس ضمن میں حوالہ نہیں پڑھا جا سکتا تو اور کیا کیا جاسکتا ہے۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فرمایا I can quote the quotation