دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 271
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 271 کر بلائے ایست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم پڑھا۔ابھی وہ یہ تاثر قائم کرنے کا آغاز ہی کر رہے تھے کہ اس شعر میں حضرت امام حسین کی توہین کی گئی ہے کہ حضرت خلیفة المسیح الثالث" نے انہیں شیعہ عالم علامہ نوگی کا یہ شعر سنایا کر بلائے عشقم لب تشنہ سر تا پائے من صد حسین کشته در ہر گوشہ صحرائے من اور فرمایا کہ یہاں ”صد حسین“ نہیں بلکہ ” ہر گوشہ صحرائے من “ میں صد حسین ہے۔یہ الفاظ تحقیر کے لئے نہیں بلکہ اظہار عشق کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔اٹارنی جنرل صاحب کے پاس اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔ย اٹارنی جنرل صاحب کے اعتراض کے جواب میں حضرت خلیفة المسیح الثالث ” نے فرمایا ”جہاں تک امام حسین اور دوسرے اہل بیعت کی ہتک کے الزام کا تعلق ہے ،اس دُکھ دہ امر کے اظہار کے بغیر چارہ نہیں کہ جماعت احمدیہ کے ساتھ مسلسل نا انصافی کا یہ طریق اختیار کیا جا رہا ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے اقتباس کو ادھورا پیش کیا جاتا ہے حالانکہ جس رنگ میں ان اقتباسات کو پیش کیا جاتا ہے خود اس کی تردید میں حضرت بانی سلسلہ کی واضح تردید موجود ہوتی ہے۔زیر نظر الزام میں حضرت امام حسین کے بارے میں اعجاز احمدی“ کی جو عبارت پیش کی جاتی ہے وہاں مضمون میں توحید اور شرک کا موازنہ کیا جا رہا ہے حضرت امام متعلق حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں۔۔۔“ پھر حضور نے حضرت امام حسین کی شان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ تحریر پڑھنی شروع کی جس کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے تو یہ صورت حال ان ممبران کے لیے نا 66 حسین کے