دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 267 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 267

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 267 گئے ہاں ان کی کارکردگی کا بھی ناقدانہ جائزہ لیا گیا ہے اور اس میں بھی بعض امور کی نشاندہی کی گئی ہے۔لیکن فرق دیکھیں کہ باقی جرنیلوں پر یہ تنقید کی گئی کہ وہ لڑنے کے لیے تیار ہی نہیں تھے انہوں نے موجود وسائل کا بھی صحیح استعمال نہیں کیا، وہ قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔وہ مرکزی کمان کو بھی غیر ضروری طور پر سیاه تصویر دکھاتے رہے ، اپنے فرائض چھوڑ کر چلے گئے وہاں جنرل جنجوعہ شہید پر یہ تبصرہ کیا گیا کہ انہیں جس علاقہ پر قبضہ کرنے کا کہا گیا تھا وہ اس سے زیادہ علاقہ پر قبضہ کرنے کے لیے کوشاں تھے اور جی ایچ کیو کو چاہئے تھا کہ انہیں اس سے روکتا اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے بجائے علاقہ دشمن کے حوالہ کرنے کے دشمن کے علاقہ پر قبضہ کیا تھا۔فرق صاف ظاہر ہے۔(59)۔اس حب الوطنی کا صلہ احمدیوں کو یہ دیا گیا کہ قومی اسمبلی میں یہ الزام لگایا گیا کہ ملک کو دو لخت کرنے کے ذمہ دار احمدی تھے۔جب کہ اس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بھی جسے خود حکومت نے قائم کیا تھا اس الزام کو صرف ایک تیسرے درجہ کا جھوٹ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے دو ایسے اعتراضات کیے جو ایک طویل عرصہ سے مخالف مولویوں کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔اور وہ یہ کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود نے اپنی بعض تحریروں میں حضرت عیسیٰ اور حضرت حسین کی توہین کی ہے۔اور اس نام نہاد الزام کو ثابت کرنے کے لیے وہ توڑ مروڑ کر یا سیاق وسباق سے علیحدہ کر کے بعض تحریروں کے حوالے پیش کرتے ہیں۔ہم یہاں پر ان دو مقدس ہستیوں کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چند تحریروں کے اقتباسات پیش کرتے ہیں، جس سے اس الزام کی قلعی کھل جاتی ہے۔اور زیادہ بحث کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک اشتہار میں تحریر فرمایا:۔