دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 266
266 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اور نہ ہی انہیں کوئی سزا دی گئی۔بلکہ اس رپورٹ میں جن افراد کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا کہ انہوں نے اقتدار حاصل کرنے اور اسے دوام بخشنے کے لیے غیر قانونی ذرائع اختیار کیے اور رشوت ستانی سے بھی کام لیا ،ان میں سے ایک کو پیپلز پارٹی کی حکومت نے فوج کا نیا سربراہ مقرر کر دیا جیسا کہ کمیشن نے پہلے سفارش کی تھی جب وہ جرنیل جو جنگی قیدی بنے ہوئے تھے ملک واپس آگئے تو حکومت نے اس کمیشن کو دوبارہ کام شروع کرنے کا کہا تاکہ ان سے تحقیقات کر کے رپورٹ کے نا مکمل حصہ کو مکمل کیا جائے۔چنانچہ جب باقی جرنیل قید سے ملک واپس آگئے تو اس کمیشن کا دوبارہ احیاء کیا گیا تاکہ تحقیقات مکمل کر لی جائیں۔یہ حکم 25/ مئی 1974ء کو جاری ہوتا ہے اور چند روز بعد ہی جماعت کے خلاف فسادات شروع ہو جاتے ہیں یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ شروع کرا دیئے جاتے ہیں اور اسمبلی کی اس سپیشل کمیٹی کی کارروائی کے دوران اٹارنی جنرل صاحب اس جریدہ کے حوالے سے یہ الزام سامنے لا رہے ہیں کہ ملک کو دو لخت کرنے کی ذمہ داری احمدیوں پر عائد ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف یہ فسادات شروع ہوئے ہیں۔جب کہ ارباب حکومت جانتے تھے کہ یہ الزام جھوٹا ہے۔وہ صرف لا یعنی الزامات عائد کر کے دھوکا دینے کی کوشش کر رہے تھے اور حقائق پاکستان کے عوام سے پوشیدہ رکھے جا رہے تھے۔ہاں جہاں تک جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے جنرل یعنی جنرل افتخار جنجوعہ صاحب کا تعلق تھا تو یہ پاکستان کی تاریخ کے واحد جنرل تھے جنہوں نے دورانِ جنگ جامِ شہادت نوش کیا اور کسی جرنیل کو یہ سعادت نصیب نہیں ہوئی اور اس رپورٹ سے یہ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اس جنگ کے دوران ان میں سے اکثر اس سعادت کے لیے مشتاق بھی نہیں تھے اور حمود الرحمن رپورٹ میں جہاں باقی اکثر جرنیلوں پر شدید تنقید کی گئی ہے اور انہیں مجرم قرار دیا گیا ہے وہاں جنرل افتخار جنجوعہ شہید کے متعلق اس رپورٹ میں A capable and bold commander کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔اور کسی جرنیل کے متعلق یہ الفاظ استعمال نہیں کیے