دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 259 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 259

259 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری on consequent award Gurdaspur was given to India to enable her to have link with Kashmir۔یعنی آزادی کے وقت جب سرحدوں کے خطوط کھینچے جا رہے تھے ، اس وقت قادیانیوں نے مسلمانوں سے ایک علیحدہ گروہ کے طور پر اپنا موقف پیش کیا اور اس کے نتیجہ میں پنجاب کے بعض سرحدی علاقوں میں مسلمانوں کی تعداد کم ہو گئی اور بعد میں گورداسپور کو بھارت کو دے دیا گیا اور اس طرح وہ اس قابل ہو گیا کہ وہ کشمیر سے رابطہ پیدا کر سکے۔یہ الزام بالکل غلط تھا۔احمدیوں نے مسلم لیگ کی اعانت کے لیے اپنا میمورنڈم پیش کیا تھا۔مسلم لیگ نے خود اپنے وقت میں سے جماعت کو اپنا موقف پیش کرنے کا کہا تھا اور احمدیوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں کا حصہ قرار دے کر کے استدعا کی تھی کہ گورداسپور کا ضلع پاکستان کے ساتھ شامل کیا جائے۔سکھوں نے اپنا موقف پیش کیا تھا کہ ہمارے مقدس مقامات جن اضلاع میں ہیں ان کو بھارت میں شامل کیا جائے کیونکہ ہم بھارت میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔اس کے جواب میں جماعت احمدیہ نے یہ میمورنڈم پیش کیا تھا کہ قادیان میں ہمارے مقدس مقامات ہیں اور ہم مسلمان ہیں اور پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور قائد اعظم نے مسلم لیگ کا مقدمہ پیش کرنے کے لیے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا انتخاب کیا تھا اور جتنی جد وجہد کی تھی حضرت چوہدری صاحب اور جماعت احمدیہ نے کی تھی ورنہ پنجاب کی مسلم لیگ تو فقط ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی تھی لیکن یہاں ذکر ضروری ہے کہ خود حکومت پاکستان نے یہ سب کارروائی مع جماعت کے میمورنڈم کے 1983ء میں حرف بحرف شائع کی اور یہ دور جماعت احمدیہ کے اشد ترین مخالف جنرل ضیاء صاحب کے دور صدارت کا تھا۔اس کتاب کا نام The partition of the Punjab ہے اور اس کی پہلی جلد میں صفحہ 428 سے رہی