دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 258
258 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری خلیفة المسیح الثالث ” نے دریافت فرمایا : Have we any thing to do with this یعنی کیا ہمارا اس تحریر سے کوئی تعلق ہے؟ اس کا جواب یہ موصول ہوا No! No! You have got nothing to do with it۔I do not know یعنی ” نہیں ! نہیں! آپ کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔مجھے نہیں علم۔۔وو اب یہ ایک عجیب مضحکہ خیز منظر تھا کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان پوری قومی اسمبلی پر مشتمل سپیشل کمیٹی میں ایک جریدہ کی ایک تحریر بطور دلیل کے پیش کر رہا ہے اور اسے یہ بھی علم نہیں کہ یہ تحریر لکھی کس کی ہوئی ہے ،اسے یہ بھی خبر نہیں کہ اس جریدہ کی کوئی حیثیت بھی ہے کہ نہیں۔بہر حال انہوں نے حوالہ پڑھنے کا شوق جاری رکھا اور ایک طویل اقتباس پڑھا۔اس کی تحریر اور ایک موضوع سے دوسرے موضوع پر بہکتے چلے جانا ہی بتا رہا تھا کہ یہ ایک غیر معیاری تحریر ہے لیکن اس کا لب لباب یہ تھا کہ احمدیوں نے خود اپنے آپ کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ کیا ہے اور بعض وہ اعتراضات دہرائے جن کا جواب پہلے ہی گزر چکا ہے۔لیکن جس کو اٹارنی جنرل صاحب نے بہت زور دے کر پڑھا اس میں دو اعتراضات تھے جن کا مختصراً ذکر کرنا مناسب حصـ ہو گا۔ہو رہا تھا تو ایک اعتراض تو اس تحریر میں یہ کیا گیا تھا کہ جب پنجاب کے باؤنڈری کمیشن میں پاکستان کا مقدمہ پیش At the time of independance and demarcation of boundries the Qadianis submitted a representation as a group seperate from Muslims۔This had the effect of decreasing the proportion of the Muslims population in some marginal areas in the Punjab and