دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 233 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 233

233 تھی: دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اسی کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عبد الحکیم کے ارتداد کی جو وجہ تحریر فرمائی تھی وہ یہ ”وہ امر لکھنے کے لائق ہے جس کی وجہ سے عبد الحکیم خان ہماری جماعت سے علیحدہ ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کا یہ عقیدہ ہے کہ نجات اخروی حاصل کرنے کے لئے آنحضرت صلی ا یہ نام پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں بلکہ ہر ایک جو خدا کو واحد لا شریک جانتا ہے (گو آنحضرت صلی علی کریم کا مذہب ہے ) وہ نجات پائے گا۔“ ( حقیقة الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 ص112) معلوم ہوتا ہے کہ اس مرحلہ تک اٹارنی جنرل صاحب کا ذہن اس کشمکش میں تھا کہ مولویوں کے ایک دوسرے پر جو کفر کے فتاویٰ جو پڑھے گئے ہیں ، ان کے اثر کو زائل کرنے کی کوئی صورت نکالی جائے۔چنانچہ انہوں نے اس کے لئے ایک نہایت عجیب راستہ ڈھونڈا۔پہلے انہوں نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ جیسا کہ آپ کہتے ہیں ان علماء نے پہلے ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے دیئے اور پھر جنوری 53ء میں اس کے باوجود انہوں نے متفقہ طور پر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔یہ منظر کشی کرنے کے بعد بیٹی بختیار صاحب نے حضور وو سے دریافت فرمایا۔۔۔وہ کیوں اکٹھے ہوئے؟ ،، یہ حصہ پڑھتے ہوئے سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ یہ سوال جماعت احمدیہ کے وفد کے وفد سے کیوں کر رہے تھے۔جماعت احمدیہ کا وفد اس بات کے لئے جوابدہ نہیں تھا کہ کیوں ان کے مخالف مولوی حضرات کبھی ایک دوسرے پر کفر اور ارتداد کے فتوے لگاتے ہیں اور پھر مل کر احمدیوں کے خلاف فتوے دینے جاتے