دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 232
232 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری وو کے لیے بنیادی تیاری کا تکلف بھی نہیں کیا تھا۔بعض مرتبہ تو متعلقہ بحث کے لیے ان کے پاس بنیادی معلومات بھی نہیں مہیا ہوتی تھیں۔پہلے تو جب حضور نے آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا پڑھا۔لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْ رسله ( البقرة : 286) تو اٹارنی جنرل صاحب کو یہ مغالطہ ہو گیا کہ یہ صرف شرعی نبیوں کے بارے میں ہے۔حالانکہ اس آیت میں کہیں پر صرف شرعی نبیوں کا ذکر نہیں ہے بلکہ سورۃ بقرۃ میں اس مضمون کی جو دوسری آیت یعنی آیت نمبر 137 ہے اس میں اس مضمون کے بیان سے قبل حضرت اسحق، حضرت اسماعیل اور حضرت یعقوب جیسے غیر شرعی نبیوں کا ذکر بھی ہے۔بہر حال پھر بحث شروع ہوئی کہ کون ملت اسلامیہ میں رہتا ہے اور کون اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے کسی ممبر کی طرف سے کیا گیا سوال اُٹھایا کہ ” مرزا غلام احمد صاحب نے عبد الحلیم کو جو پہلے مرزا غلام احمد کا مرید تھا۔پھر اس سے شدید اختلاف کیا۔یا اس کی حیثیت نبوی ماننے سے انکار کیا تو مرزا غلام احمد نے اسے مرتد قرار دیا؟ (حقیقة الوحی صفحہ 163)۔اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سوال کرنے والے نے سطحی معلومات بھی حاصل کیے بغیر حوالہ دے کر سوال کر دیا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر عبد الحکیم نے اس عقیدہ کا اظہار کیا تھا کہ نجات کے لیے آنحضرت صلیلی لیلی کام پر ایمان لانا ضروری نہیں جب کہ جماعت احمدیہ کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفے صلی یہ کام پر ایمان لائے بغیر نہ تو نجات حاصل ہو تعلیم سکتی ہے اور نہ کوئی روحانی مدارج حاصل ہو سکتے ہیں۔چونکہ اس کا یہ عقیدہ جماعت احمدیہ کے بنیادی عقیدہ سے ہی مختلف تھا اس لیے حضرت مسیح موعود نے اس کا اخراج فرمایا تھا اور اس معاملہ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی ماننے یا نہ ماننے سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا اور حقیقۃ الوحی کے جس مقام کا حوالہ دیا جا رہا تھا وہاں پر عبد الحلیم کے اخراج کا ذکر نہیں تھا ایک بالکل اور مضمون بیان ہو رہا تھا۔البتہ عبدالحکیم کو لکھے گئے ایک خط کا ذکر تھا۔