دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 218
218 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کہتے ہیں کہ اس کے لئے کہا کہ اس کی قبر میں سانپ اور بچھو بھر دے۔تو اس نے کہا کہ سانپ اس کو کاٹے گا اور بچھو اسے ڈسے گا۔اور شیطان اس کے ساتھ اس کی قبر کا ساتھی ہو گا 66 فروع کافی۔کتاب الجنائز باب الصلوة على الناصب ، ص99) اس کے بعد بھی یہ عبارت اسی طرز پر جاری رہتی ہے۔اگر اپنے مخالف عقیدہ رکھنے والے مسلمان کا جنازہ پڑھ کر یہی دعا خدا سے مانگنی ہے تو اس سے بہتر ہے کہ نماز جنازہ پڑھنے کا تکلف نہ ہی کیا جائے۔اس پس منظر میں احمدیوں پر یہ اعتراض کسی طور پر بھی معقول اعتراض نہیں کہلا سکتا۔یہاں ذرا رک کر جائزہ لیتے ہیں کہ اس سپیشل کمیٹی کے سپرد یہ کام تھا کہ یہ فیصلہ کرے کہ جو ختم نبوت کا منکر ہے اس کا اسلام میں کیا Status ہے۔بحث کا دوسرا دن جا رہا تھا اور سوالات اپنے موضوع کو چھو کر بھی نہیں گزر رہے تھے۔احمدیوں کی تعداد کتنی ہے ؟ احمدی غیر احمدیوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے ،ان کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ ان سے شادیاں کیوں نہیں کرتے ؟ جب انہیں غیر احمدی علماء کے فتاویٰ سنائے گئے جس میں یہاں تک لکھا تھا کہ دوسرے فرقہ کے لوگ نہ صرف غیر مسلم بلکہ مرتد ہیں۔ان سے سلام بھی نہیں کیا جاسکتا۔اگر ان سے شادی کر کے اولاد ہو تو وہ ولد الزنا ہو گی۔تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔جب یہ راگ الاپا گیا کہ احمدی غیر احمدی بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے تو انہیں یاد دلایا گیا کہ انہی دنوں میں احمدیوں کو شہید کیا جا رہا ہے ، ان کی قبریں اکھیڑی جا رہی ہیں ، ان کی تدفین میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں، ان کے مکانات اور دوکانیں اور فیکٹریاں نذرِ آتش کی جا رہی ہیں ، آخر یہ تو بتائیں کہ ان کے خلاف آواز کس نے اُٹھائی اور آخر کیوں نہیں اُٹھائی؟ حکومت نے تو ان کے دفاع کے لیے کچھ نہیں کیا بلکہ بہت سے مقامات پر قانون نافذ