دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 206
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 206 6 / اگست کی کارروائی 6/ اگست کو اسمبلی کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی۔ابھی جماعت کا وفد اسمبلی میں نہیں آیا تھا۔مگر معلوم ہو رہا تھا کہ آج کچھ حوالے پیش کر کے جماعت کے وفد کو لاجواب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔سپیکر صاحب نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کی سہولت کے لئے کتابیں سامنے ہی رکھ دی جائیں۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ وہ موجود ہیں۔سپیکر صاحب نے پھر تاکید کی کہ اٹارنی جنرل صاحب کے آس پاسLeast Disturbance ہونی چاہئے۔ان کے ارد گرد کوئی سرگوشی نہیں ہونی چاہئے۔یہ اہتمام غالباً اس لئے کیا جا رہا تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب پوری یکسوئی سے سوال کر سکیں۔اس سے قبل کہ حضور وفد کے ہمراہ ہال میں تشریف لاتے ایک ممبر جہانگیر علی صاحب نے سپیکر صاحبزادہ فاروق علی صاحب سے کہا:۔Mr۔Chairman interpretation of document or a writting is not the job of witness۔I would therefore request that the witness should not be allowed to interpret; it is the job of the presiding officer or the judge۔یعنی وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ایک تحریر یا دستاویز سے استدلال کرنا گواہ کا کام نہیں ہوتا۔یہ کارروائی کے چیئر مین یا جوں کا کام ہوتا ہے۔لہذا گواہوں کو یعنی جماعت کے وفد کو اس بات سے روکا جائے کہ وہ استدلال کریں۔جہانگیر علی صاحب کی طرف سے یہ ایک لا یعنی فرمائش تھی۔سوالات کرنے والوں کی طرف سے جماعت کی تعلیمات پر اعتراض کیے جا رہے تھے اور سیاق و سباق اور پس منظر سے الگ کر کے جماعتی تحریرات کے حوالے پیش کیے جا رہے تھے۔لیکن ان صاحب کے نزدیک جماعتی وفد کو اس بات کی اجازت نہیں ہونی چاہئے