دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 195 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 195

195 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری حضرت خلیفة المسیح الثالث: وہ قابل مواخذہ ہیں اللہ کے نزدیک۔ی بختیار: نہیں، پھر بھی وہ مسلمان رہتے ہیں یا نہیں؟ حضرت خلیفة المسیح الثالث: اگر پانچ ارکانِ اسلام کے علاوہ باقی جو تعلیم ہے اور احکام قرآنی ہیں، ان کو چھوڑ کے یا خود ان پانچ پر عمل نہ کر کے بھی مسلمان رہتا ہے، پھر وہ ایک sense میں مسلمان رہتے ہیں ایک میں پھر اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کیا کہ علماء جن کے متعلق یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، ان کی کیا حیثیت ہے۔اس پر حضرت خلیفة المسیح الثالث نے فرمایا : ”میرے نزدیک صرف یہ ہے کہ وہ قیامت والے دن مرنے کے بعد قابل مواخذہ ہوں گے۔پھر 5 / اگست کی کارروائی کے دوران اس موضوع پر سوالات آگے بڑھے تو حضرت خلیفة المسیح الثالث" نے فرمایا:۔بد کلمہ طیبہ کا انکار کرے کوئی شخص تو وہ ملتِ اسلامیہ سے خارج ہو جاتا ہے، امتِ مسلمہ میں نہیں رہتا لیکن جو عقید گیاں ہیں ، دوسری کمزوریاں ہیں ، گنہگار ہے، انسان بڑا کمزور ہے، میں بھی آپ بھی ، اللہ محفوظ رکھے ہمیں، تو اس کو ابنِ تیمیہ یہ کہتے ہیں:۔ایک کفر ہے جو ملت سے خارج کر دیتا ہے اور دوسرا کفر ہے جو ملت سے خارج نہیں کرتا۔جو کلمہ طیبہ کا انکار ہے وہ ملت سے خارج کر دیتا ہے۔“ اس کے علاوہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " نے اس اصولی موقف کا اظہار فرمایا:۔