دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 133
133 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کے ملازمین کو وہاں پر کام کرنے سے روک دیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ کارخانہ بند کرنا پڑا۔دیہات میں احمدیوں کی زندگی کو اجیرن کرنے کے لیے یہ بھی کیا گیا کہ احمدیوں کو کنویں سے پانی نہیں لینے دیا جاتا اور چکی والوں کو مجبور کیا گیا کہ احمدیوں کو آنا ہیں کر نہ دیا جائے۔احمدیوں کو تکلیف دینے کے لیے ان کی مساجد میں غلاظت پھینکی جاتی۔اور پاکپتن میں جماعت کی مسجد پر قبضہ کر لیا گیا۔ان کی سنگدلی سے مردہ بھی محفوظ نہیں تھے 7 / جولائی کو خوشاب میں ایک احمدی کی قبر کھود کر نعش کی بے حرمتی کی گئی اور کو ٹلی اور گوجرانوالہ میں احمدیوں کی تدفین روک دی گئی۔لائلپور میں اب مخالفین علی الاعلان یہ کہتے پھرتے تھے کہ پندرہ جولائی کے بعد ربوہ کے علاوہ کہیں پر احمدی نظر نہ آئے۔نصیرہ ضلع گجرات میں یہ اعلان کیے گئے جو احمدی اپنے عقائد کو نہیں چھوڑے گا اس کے گھروں کو جلا دیا جائے گا۔2 / جولائی کو ایک احمدی سیٹھی مقبول احمد صاحب کو ان کے مکان پر گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔لاہور کی انجینیئر نگ یونیورسٹی میں احمدی طالب علم امتحان دینے گئے تو ان کے کمرہ کے اندر پٹرول چھڑک کر آگ لگادی گئی۔انہیں اپنی جانیں بچا کر وہاں سے نکلنا پڑا۔(38) کراچی میں جماعتِ اسلامی کے بعض لوگوں نے کچھ اور مولویوں کے ساتھ مل کر ایک سازش تیار کی کہ کسی طرح لوگوں کے جذبات کو احمدیوں کے خلاف بھڑ کا یا جائے۔انہوں نے دستگیر کالونی کراچی کے ایک پرائمری پاس مولوی جس کا نام ابراہیم تھا کو چھپا دیا اور اس کے ساتھ یہ شور مچا دیا کہ قادیانیوں نے ہمارے عالم دین کو اغوا کر لیا ہے۔یہ خبر اخباروں میں شائع کی گئی اور اس کے ساتھ عوام میں اسے مشتہر کر کے اشتعال پھیلایا گیا۔جلوس نکلنے شروع ہوئے کہ اگر قادیانیوں نے ہمارے مولانا کو آزاد نہ کیا تو ان کے گھروں اور دوکانوں کو نذر آتش کر دیا جائے گا۔اور اس کے ساتھ احمدیوں کے گھروں اور دوکانوں کی نشاندہی کے لئے ان پر سرخ روشنائی سے گول دائرہ بنا کر اس کے اندر کر اس کا نشان لگا دیا گیا۔مقامی ایس ایچ اونے شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان جلوسوں کو منتشر کیا۔مخالفین کے جوش کو ٹھنڈا کرنے کے لئے پولیس نے پانچ احمدیوں کو اس نام نہاد اغوا کے الزام میں گرفتار کر لیا۔مولوی لوگ حوالات میں آکر پولیس سے کہتے کہ ان کی پٹائی کرو۔ابھی یہ نامعقول سلسلہ جاری تھا کہ پولیس نے چھاپے مار کر 12 / اگست کو علاقہ شیر شاہ کے مکان سے ان چھپے ہوئے مولوی کو بر آمد کر کے گرفتار کر لیا۔اور پھر جاکر گرفتار مظلوم احمدیوں کی رہائی عمل میں آئی۔(39) پورے ملک میں احمدیوں کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلا کر لوگوں کو احمدیوں کے خلاف بھڑ کا یا جارہا تھا۔یہاں تک کہ یہ خبریں مشہور ہونے لگیں کہ ربوہ کے ریلوے سٹیشن پر ہونے والے واقعہ میں بہت سے طالب علموں کی زبانیں اور دوسرے