دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 127
127 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 1۔نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی کوئی بھی قانون ساز اسمبلی اس بات کا اختیار نہیں رکھتی کہ وہ یہ فیصلہ کرے کسی شخص یا گر وہ کامذ ہب کیا ہے۔یا اس قسم کا کوئی قانون بنائے جس سے کسی شخص یا گروہ کی مذ ہبی آزادی متاثر ہو۔2۔دنیا کی کوئی بھی سیاسی اسمبلی اس قسم کے معاملات کے بارے میں فیصلہ کرنے کا نہ صرف اختیار نہیں رکھتی بلکہ اس قسم کا فیصلہ کرنے یا اس پر غور کرنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتی۔3- کسی ملک کی اکثریت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی گروہ کے مذہبی معاملات کے بارے میں فیصلے کرے اور یہ فیصلہ کرے کہ وہ کس مذہب سے وابستہ ہے۔4۔قرآن کریم کی تعلیمات اور آنحضرت کے ارشادات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کوئی شخص یا حکومت کسی شخص یا گروہ کے مذہب کے بارے میں اس قسم کے فیصلے کریں۔5- اگر یہ راستہ اختیار کیا گیا تو اس سے نہ صرف پاکستان میں ان گنت فسادات کے راستے کھل جائیں گے بلکہ پوری دنیا میں خطر ناک مسائل پیدا ہو جائیں گے۔یہ ظاہر ہے کہ محضر نامہ کا یہ حصہ بہت اہم ہے۔اس میں نہ صرف جماعت احمدیہ کا اصولی موقف بیان کیا گیا ہے بلکہ متنبہ بھی کیا گیا تھا کہ اگر یہ غلطی کی گئی تو پاکستان اور دنیا بھر میں کیا مسائل پیدا ہوں گے ؟ کتاب کے آخر میں ہم اس بات کا جائزہ پیش کریں گے کہ اس غلطی کے اب تک کیا نتا ئج نکل رہے ہیں۔اس محضر نامہ کا دوسرا باب بھی ایک بہت اہم اور بنیادی سوال کے بارے میں تھا۔اگر یہ اس مسئلہ پر بحث ہو رہی ہے کہ کون مسلمان ہے تو پھر پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے ؟ مسلمان کسے کہتے ہیں؟ اور جہاں تک جماعت احمدیہ کی مخالفت کی تاریخ کا تعلق ہے تو اس سوال کا ایک پس منظر ہے۔جب 1953ء میں جماعتِ احمدیہ کے خلاف فسادات پر عدالتی ٹریبونل نے کام شروع کیا تو اس کے سامنے جماعت احمدیہ کے مخالفین کا یہ مطالبہ تھا کہ آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔طبعاً اس ٹریبونل کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر ایک فرقہ کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ ہے تو پہلے تو یہ طے کرناضروری ہے کہ آخر مسلم کی تعریف کیا ہے ؟ مسلمان کسے کہتے ہیں ؟ جب یہ سوال ان علماء کے سامنے رکھا گیا جو کہ اس ٹریبونل کے روبرو پیش ہو رہے تھے تو کسی ایک عالم کا جواب دوسرے عالم کے جواب سے نہیں ملتا تھا۔اس