دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 126
126 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اسی طرح پاکستان کے دستور اساسی میں بھی دفعہ نمبر 20 کے تحت ہر پاکستانی کا یہ بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو۔اس لئے یہ امر اصولاً طے ہونا چاہئے کہ کیا یہ کمیٹی پاکستان کے دستور اساسی کی رو سے زیر نظر قرار داد پر بحث کی مجاز بھی ہے یا نہیں ؟" اگر قوم یا اسمبلی اس راستہ پر چل نکلے تو اس کے نتیجہ میں کیا کیا ممکنہ خطرات پید اہو سکتے ہیں، ان کا مختصر جائزہ لے کر یہ انتباہ کیا گیا۔” ظاہر ہے کہ مندرجہ بالا صورتیں عقلاً، قابل قبول نہیں ہو سکتیں اور بشمول پاکستان دنیا کے مختلف ممالک میں ان گنت فسادات اور خرابیوں کی راہ کھولنے کا موجب ہو جائیں گی۔کوئی قومی اسمبلی اس لئے بھی ایسے سوالات پر بحث کی مجاز قرار نہیں دی جاسکتی کہ کسی بھی قومی اسمبلی کے ممبران کے بارے میں یہ ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ وہ مذہبی امور پر فیصلے کے اہل بھی ہیں کہ نہیں ؟ دنیا کی اکثر اسمبلیوں کے ممبر ان سیاسی منشور لے کر رائے دہندگان کے پاس جاتے ہیں اور ان کا انتخاب سیاسی اہلیت کی بناء پر ہی کیا جاتا ہے۔خود پاکستان میں بھی ممبران کی بھاری اکثریت سیاسی منشور کی بناء اور علماء کے فتوے کے علی الرغم منتخب کی گئی ہے۔پس ایسی اسمبلی کو یہ حق کیسے حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ کسی فرقہ کے متعلق یہ فیصلہ کرے کہ فلاں عقیدہ کی روسے فلاں شخص مسلمان رہ سکتا ہے کہ نہیں ؟ اگر کسی اسمبلی کی اکثریت کو محض اس بناء پر کسی فرقہ یا جماعت کے مذہب کا فیصلہ کرنے کا مجاز قرار دیا جائے کہ وہ ملک کی اکثریت کی نمائندہ ہے تو یہ موقف بھی نہ عقلاً قابل قبول ہے نہ فطرتانہ مذ ہبا۔اس قسم کے امور خود جمہوری اصولوں کے مطابق ہی دنیا بھر میں جمہوریت کے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیئے جاتے ہیں۔اسی طرح تاریخ مذہب کی رو سے کسی عہد کی اکثریت کا یہ حق کبھی تسلیم نہیں کیا گیا کہ وہ کسی کے مذہب کے متعلق کوئی فیصلہ دے۔اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے تو تھوڑ باللہ دنیا کے تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی جماعتوں کے متعلق ان کے عہد کی اکثریت کے فیصلے قبول کرنے پڑیں گے۔ظاہر ہے کہ یہ ظالمانہ تصور ہے جسے دنیا کے ہر مذہب کا پیروکار بلا توقف ٹھکرا دے گا۔“ مختصرا یہ کہ اس اہم اور بنیادی سوال پر جماعت احمدیہ کا اصولی موقف یہ تھا