دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 120 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 120

120 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری یعنی اس ٹیلیگرام میں کہا گیا تھا کہ سپیشل کمیٹی جماعت کی طرف سے تحریری بیان کو قبول کرے گی اور اس کے ساتھ دوسری دستاویزات بھیجی جاسکتی ہیں۔جماعت کے وفد کا موقف اس شرط پر سنا جائے گا کہ اس کی قیادت جماعت کے امام کر رہے ہوں۔کمیٹی کے سامنے تحریری بیان پڑھا جائے گاز بانی بیان یا تقریر کی اجازت نہیں ہو گی۔اس بیان کے بعد سپیشل کمیٹی جماعت کے سر براہ سے سوالات کرے گی۔براہ مہربانی اپنا بیان شام چھ بجے 11/ جولائی تک جمع کرا دیں۔اب یہ عجیب صورت حال پیدا کی جارہی تھی کہ جماعت کا وفد اس کمیٹی کے سامنے پیش ہونا تھاتو یہ اختیار بھی جماعت کو ہی تھا کہ وہ جسے پسند کرے اس وفد کار کن یا سر براہ مقرر کرے لیکن یہاں پر قومی اسمبلی کی کمیٹی بیٹھی یہ فیصلہ بھی کر رہی تھی کی کہ جماعت کے وفد میں کے شامل ہونا چاہئے۔لیکن اس اندھیر نگری میں عقل کو کون پوچھتا تھا۔چنانچہ 13 / جولائی 1974ء کو ناظر اعلی صدر انجمن احمد یہ صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب نے سیکریٹری صاحب قومی اسمبلی کو ایک خط تحریر فرمایا جس کے آخر میں آپ نے لکھا "I find it very strange that you propose to appoint the head of delegation۔I think the delegation being ours the choice as to who should lead it should also be ours"۔یعنی یہ بات میرے لئے حیرت کا باعث ہے کہ آپ ہمارے وفد کا سر براہ مقرر کر رہے ہیں۔اگر یہ وفد ہمارا وفد ہے تو یہ فیصلہ بھی ہمارا ہونا چاہئے کہ اس کی قیادت کون کرے گا؟ لیکن یہ عقل کی بات منظور نہیں کی گئی۔چنانچہ یہ تحریری موقف ایک محضر نامہ کی صورت میں تیار کیا گیا اور مکرم محمد شفیق قیصر صاحب مرحوم اس محضر نامہ کی ایک کاپی مکرم مجیب الرحمن صاحب کے پاس لے کر آئے کہ وہ اسے داخل کرائیں۔چنانچہ مکرم مجیب الرحمان صاحب نے یہ کاپی قومی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل الیاس صاحب کے حوالے کی۔انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ اسمبلی کی کارروائی شروع ہونے سے قبل تمام ممبرانِ اسمبلی کو اس کی ایک ایک کاپی دی جائے۔چنانچہ مجیب الرحمن صاحب نے فون پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث" سے اس بابت عرض کیا۔چنانچہ دو تین دن کے اندر مکرم شفیق قیصر صاحب ایک گاڑی میں اس کی شائع کر دہ مطلوبہ کاپیاں لے کر آگئے۔ابھی اس کی جلدیں تیلی تھیں کہ یہ کاپیاں سیکریٹری اسمبلی کے حوالہ کی گئیں (35)۔