دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 116 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 116

116 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری وزیر قانون نے اس قرارداد میں جو انہوں نے پیش کی تھی اور اپوزیشن کی پیش کردہ قرار داد میں مشتر کہ امور کی نشاندہی کی۔ایوان نے اس قرار داد کو بھی سپیشل کمیٹی میں پیش کرنے کی منظوری دے دی۔(29 تا 31) اب یہ بات قابل توجہ ہے کہ ابھی اس موضوع پر اسمبلی کی باقاعدہ کارروائی شروع ہی نہیں ہوئی اور ابھی جماعتِ احمدیہ کا موقف سنا ہی نہیں گیا تو اپوزیشن ایک مشترکہ قرارداد پیش کرتی ہے کہ احمدیوں کو آئین میں غیر مسلم قرار دیا جائے اور حکومت یہ کہتی ہے کہ ہم اس قرار داد کا خیر مقدم کرتے ہیں تو باقی کیا رہ گیا۔اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ابھی کارروائی شروع نہیں ہوئی تھی کہ اصل میں فیصلہ ہو چکا تھا اور بعد میں جو کچھ کارروائی کے نام پر ہو اوہ محض ایک ڈھونگ تھا۔جب ہم نے ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے اس بارے میں سوال کیا تو ان کا جواب تھا کہ مجھے صحیح تو معلوم نہیں لیکن یہ ہوا ہو گا کہ جب قرار داد پیش ہوئی ہو گی تو پیر زادہ صاحب بھٹو صاحب کے پاس گئے ہوں گے کہ یہ قرارداد ہے اب کیا Attitude لیں۔تو بھٹو صاحب نے کہا ہو گا کہ پیش ہونے دو۔مخالفت نہ کرو۔تو اب انہیں یہ سمجھ میں نہیں آئی کہ کیا الفاظ استعمال کریں۔تا کہ یہ کہہ بھی دیں اور ان الفاظ میں نہ کہیں اب تو پکڑے گئے۔اور پھر جب ہم نے یہ بات دہرائی کہ یہ واقعہ تو 30 جون کا ہے تو ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے کہا۔”ہاں بالکل بیوقوف تھالاء منسٹر۔اگر وہ بھٹو صاحب کا ساتھی ہوتا تو اس طرح انہیں expose نہ کرتا۔“ جب انہیں کہا گیا کہ یہ تو انصاف سے بعید ہے کہ ایک فرقہ کا موقف سنے بغیر آپ فیصلہ سنا دیں۔اس پر ان کا جواب تھا۔نیت تو ہو گئی تھی۔" 66 جب ہم نے یہ سوال اس وقت کے سپیکر صاحب صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب سے پوچھا کہ جب اپوزیشن نے یہ قرار داد پیش کی تو حکومت نے کہا کہ ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس وقت تک فیصلہ ہو چکا تھا تو ان کا جواب تھا: نہیں وہ اس سے پہلے جائیں ناں رابطہ عالم اسلامی کی طرف“ اس پر ہم نے کہا۔مطلب یہ کہ اس وقت Decide ہو چکا تھا“