دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 110
110 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کہ کسی بیر ونی ہاتھ کو ملک میں مداخلت کا موقع ملے۔جب ہم نے ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے یہ سوال کیا کہ کیا میاں طفیل محمد کا یہ بیان غیر ملکی سربراہ کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی دعوت دینے کے مترادف نہیں ہے۔تو اس موقع پر جو سوال جواب ہوئے وہ یہ تھے۔ڈاکٹر مبشر حسن صاحب۔ممکن ہے کہ انہوں نے وہ ان کے کہنے پر ہی کیا ہو کہ تم یہ demand کرو۔سلطان: کس کے کہنے پر ؟ ڈاکٹر مبشر حسن صاحب : باہر والوں کے۔سلطان : شاہ فیصل کے کہنے پر ؟ ڈاکٹر مبشر حسن صاحب : ہاں۔سلطان: اچھا۔ڈاکٹر مبشر حسن صاحب: ان کے یا کسی اور کے۔جہاں سے بھی انہیں پیسے آتے تھے۔سلطان : میاں طفیل محمد کو جماعت اسلامی کو پیسے ملتے تھے ؟ مبشر حسن: ہاں ہاں۔سلطان: ان کے کہنے پر انہوں نے کہا OK تم یہ کرو؟ ڈاکٹر مبشر حسن صاحب: ہاں تم یہ demand کرو بھئی ہم کر دیں گے۔خود بخود ہم نے تو نہیں کیا۔demand ہو رہی تھی بھائی عوام سے۔" جب ہم نے عبد الحفیظ پیر زادہ صاحب سے سوال کیا کہ میاں طفیل محمد صاحب کا یہ بیان غیر ملکی مداخلت کو دعوت دینے کے مترادف نہیں تھا تو انہوں نے کہا: Jamat e Islami always did it, JUI always did, JUP always did it" جماعت اسلامی ہمیشہ یہی کرتی تھی، جمعیت علماء اسلام ہمیشہ یہی کرتی تھی، جمعیت علمائے پاکستان ہمیشہ یہی کرتی تھی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے 21 / جون 1974 ء کے خطبہ جمعہ میں احمدیوں کے خلاف بائیکاٹ کی مہم کا ذکر کر کے فرمایا کہ رسول کریم کو اور آپ کے صحابہ کو شعب ابی طالب میں جو تکالیف پہنچائی گئیں وہ بہت زیادہ تھیں۔اور پھر آپ کا مکی