غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 8
قلعہ بند ہو کر مسلمانوں سے جنگ کے لئے تیار ہو گئے۔اس کی سزا ان کی شریعت کے مطابق تو یہ تھی کہ ان کے جنگجو مردوں کو قتل اور عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا جائے۔(استثناء ۲۰/۱۳)۔لیکن یہ نبی کا احسان شفقت اور وسعت حوصلہ تھا کہ آپ نے ان کی جان بخشی فرما دی۔لیکن چونکہ مدینہ میں ان کا رہنا خطرناک تھا اس لئے آپ میں نے بنو قینقاع کو مدینہ سے چلے جانے کا حکم دیا۔۳ھ میں یہود کے سب سے بڑے قبیلے بنو نضیر کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف اہل مکہ سے ساز باز رکھنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقدام قتل کے منصوبہ کی صورت میں بد عہدی ظاہر ہوئی۔(بخاری کتاب المغازی) جب ان سے مواخذہ کیا گیا تو وہ بھی قلعہ بند ہو کر مسلمانوں بر سر پیکار ہو گئے اور پندرہ دن بعد انہوں نے مال و اسباب سمیت مدینہ سے نکل جانے کی شرط پر قلعوں کے دروازے کھول دیئے۔ابن هشام جلد ۳ صفحه ۲۴۱۴۲۴۰) آنحضرت ملی وی کا اصل مقصد چونکہ ان کی شرارتوں کا سد باب تھا اس لئے آپ نے یہ شرط مان لی۔اور آٹھ میں بنو نضیر کے یہودی اپنے اہل و عیال ، تمام تر مال و اسباب اور سونے چاندی کے قیمتی زیورات وغیرہ ساتھ لیکر ڈھول باجے بجاتے اور قومی گیت گاتے ہوئے بڑی شان اور طمطراق کے ساتھ مدینہ سے نکلے۔(۱- زرقانی جلد ۲ (۸) ii۔حیات محمد صفحه ۲۶۳) یہود کے سردار سلام بن ابی الحقیق نے اپنا قیمتی خزانہ مسلمانوں کو دکھاتے ہوئے کہا ایسے نازک حالات کیلئے ہم نے یہ مال جمع کر رکھا تھا۔یہودی جانتے تھے کہ رسول اللہ مالی عہد کے پابند ہیں وہ ہمارے مال و اسباب سے تعریض نہیں کریں گے اور ہمارے مال محفوظ ہیں اس لئے اعلانیہ مال دکھا دکھا